حمزہ شہباز کو گرفتار کرنے کے لیے نیب کی مسلسل کوشش پر شدید تنقید

لاہور (زرائع) پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر حمزہ شہباز کو گرفتار کرنے کے لیے قومی احتساب بیورو (نیب) کی 2 مسلسل کوششوں پر نیب کو متضاد رویے کا سامنا ہے۔

ایک جانب حکومتی اراکین ان چھاپوں کو نیب کی ناکامی سے تعبیر کررہے ہیں تو دوسری جانب اپوزیشن اسے انسدادِ بدعنوانی ادارے کی جانب سے قانون کی خلاف ورزی قرار دے رہی ہے۔

زرائع کی رپورٹ کے مطابق نیب کے چھاپوں پر اپوزیشن جماعتوں، مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) نے نہ صرف ادارے بلکہ تحریک انصاف کی حکومت کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔

یہ بھی پڑھیں:   وزیر دفاع پرویز خٹک نے مولانا فضل الرحمان سے ہونے والے مذاکرات کو ’ٹائم پاس‘ قرار دیدیا

تو دوسری جانب حکومتی اراکین نے بھی جعلی اکاؤنٹس کے ذریعے 85 ارب روپے کی منی لانڈرنگ کے ملزمان کو پکڑنے کی سنجیدہ کوششیں نہ کرنے پر نیب کی سرزنش کی۔

اس حوالے سے وزیراعظم عمران خان کے ترجمان ندیم افضل چن نے نیب کے چھاپوں کو ناکام آپریشن قرار دیتے ہوئے کہا کہ بیورو نے حمزہ شہباز کو ’سیاسی فائدہ‘ پہنچایا۔

یہ بھی پڑھیں:   نواز شریف مر سکتا ہے لیکن وہ پیسے نہیں دے سکتا، آصف علی زداری پیسے دے سکتا، شیخ رشید

ان کا مزید کہنا تھا کہ شریف خاندان کے 5 اراکین پہلے ہی مفرور ہیں جبکہ پی ٹی آئی کہ رہنما اور صوبائی وزیر علیم خان جیل میں ہیں اور دیگر افراد نیب ریفرنس کا سامنا کررہے ہیں۔نیب کے ناکام چھاپوں پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے ندیم افضل چن کا کہنا تھا کہ ’ملک میں اب بھی اشرافیہ حقیقی احتساب سے مبرا ہے‘۔

یہ بھی پڑھیں:   آرمی پبلک سکول حملے کے اہم سہولت کار کو پھانسی دیدی گئی

دوسری جانب پنجاب کے وزیر صنعت میاں اسلم اقبال کا کہنا تھا کہ حمزہ شہباز کو بدعنوانی کے سنگین الزامات کا سامنا ہے اور 85 ارب روپے منی لانڈرنگ کے ذریعے باہر لے جانے کا الزام پنجاب کے میگا منصوبوں میں ہونے والی بدعنوانی کے حجم کے بارے میں بتاتا ہے۔