بھارت کا پاکستان سے بھارتی جاسوس سے متعلق ایک مرتبہ پھر مطالبہ

اسلام آباد (ویب ڈیسک ) بھارت نے پاکستان کی زیر حراست بھارتی جاسوس سے متعلق ایک مرتبہ پھر مطالبہ کر دیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق بھارت نے ایک مرتبہ پھر پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ کلبھوشن یادیو تک قونصلر رہائی دی جائے۔ یہی نہیں بھارت نے کلبھوشن یادیو سمیت دیگر قیدیوں ،جن میں محمد جاوید، عبدالحکیم، محمد اسماعیل اور ایک اور قیدی شامل ہیں، تک بھی پاکستان سے قونصلر رسائی دینے کا مطالبہ کیا ہے۔

بھارت نے پاکستان میں سزا مکمل کرنے والے دس قیدیوں کی رہائی کے ساتھ 385 ماہی گیروں کی رہائی کا بھی مطالبہ کیا ۔ سفارتی ذرائع کے مطابق بھارت نے کلبھوشن یادیو کو سویلین قیدی قرار دیا تھا اس لئے کلبھوشن سمیت دیگر قیدیوں تک قونصلر رسائی طلب کی۔ واضح رہے کہ کلبھوشن یادیو کو بلوچستان سے گرفتار کیا گیا تھا۔ یاد رہے بھارتی نیوی کاکمانڈر کلبھوشن پاکستان میں تباہی پھیلانے کے مذموم ارادے کے ساتھ ایرانی سرحد سے داخل ہوا لیکن پاکستان کی سکیورٹی فورسز نے 3 مارچ 2016ء کو کلبھوشن کو بلوچستان کے علاقے ماشکیل سے رنگے ہاتھوں گرفتار کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:   فواد چودھری کی ق لیگ میں فاروڈ بلاک سے متعلق بیان پر معذرت

29 مارچ کو جاری کیے گئے ویڈیو بیان میں کلبھوشن یادیو اعتراف کیا کہ وہ بھارتی بحریہ کا حاضر سروس افسر اور جاسوس ہے اور پاکستان میں دہشت گردی کی مذموم کارروائیوں میں ملوث ہے ۔ 24 مارچ کو پاک فوج نے بتایا کلبھوشن بھارتی بحریہ کا افسر، بھارتی انٹیلی جنس ادارے را کا ایجنٹ ہے، جو ایران کے راستے دہشت گردی کے لیے پاکستان میں داخل ہوا تھا۔ اپریل 2017ء میں فوجی عدالت نے ملک میں دہشت گردی کی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا مجرم قرار دیتے ہوئے سزائے موت سنائی تھی۔ کلبھوشن یادیو کی گرفتاری اور اعتراف جُرم کے بعد پہلے تو بھارت کلبھوشن یادیو کے بھارتی افسر اور بھارتی شہری ہونے سے بھی انکاری رہا۔ لیکن بعد میں کلبھوشن کو اپنا شہری تسلیم کیا

یہ بھی پڑھیں:   سانحہ ساہیوال، دہشتگرد قرار پانے والے ذیشان کے اہلخانہ کا دھرنا،راجہ بشارت کے استعفیٰ کا مطالبہ