یوٹیوب نے عالمی شہرت یافتہ عالم دین مولانا طارق جمیل کو گولڈن پلے بٹن کے ایوارڈ سے نوازا دیا

اسلام آباد( آن لائن )دنیا کی مقبول ترین ویڈیو اسٹریمنگ و شیئرنگ ویب سائٹ یوٹیوب نے عالمی شہرت یافتہ عالم دین مولانا طارق جمیل کو منفرد اعزاز سے نواز دیا۔مولانا طارق جمیل ایک معروف پاکستانی مبلغ اور عالم دین ہیں اور دنیا بھر میں وہ دین کی دعوت و تبلیغ کی وجہ سے شہرت رکھتے ہیں۔

ان کی انہی تبلیغ کی کوششوں کے باعث کئی گلوکار، اداکار اور کھلاڑیوں کی زندگیوں میں تبدیلی دیکھنے میں آئی ہے۔جہاں معروف عالم دین کی کاوشوں کا اعتراف دنیا بھر میں کیا جاتا ہے وہیں اب سرچ انجن گوگل کی ذیلی کمپنی یوٹیوب نے بھی ان کی خدمات کو تسلیم کرلیا اور انہیں یوٹیوب کے مخصوص گولڈن پلے بٹن کے ایوارڈ سے نوازا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   عمران خان کا معاون خصوصی ندیم بابر کتنے کروڑ روپے کا نادہندہ نکلا؟بڑا انکشاف سامنے آگیا

یوٹیوب کی جانب سے یہ بٹن ان کی ویب سائٹ پر موجود طارق جمیل آفیشل چینل پر ایک ملین (10 لاکھ)سے زائد سبسکرائبر ہونے کے اعزاز میں دیا گیا ہے جبکہ اس وقت چینل پر سبسکرائبر کی تعداد 13 لاکھ سے زائد ہے۔ویڈیو اسٹریمنگ ویب سائٹ کی جانب سے کسی چینل کو اس بٹن سے نوازنا ایک انعام کے ساتھ ساتھ اس بات کا اعتراف بھی ہوتا ہے کہ اسے سب سے زیادہ مشہور چینلز میں شامل کیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   پاکستان کے اندرعناصر کے خلاف حکومت نے کارروائی کا ارادہ کر لیا، شاہ محمود قریشی نے اعلان کر دیا

مولانا طارق جمیل کے چینل کو دیے گئے اس اعزازی بٹن کو خود مولانا طارق جمیل نے کھولا اور اس کی ویڈیو بھی شیئر کی۔ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ مولانا طارق جمیل گولڈن پلے بٹن کو ان باکس کرتے ہوئے اپنے تمام چاہنے والوں کو سلام پیش کرتے ہیں۔یوٹیوب کی جانب سے بھیجے گئے اس گولڈن اعزازی بٹن پر مولانا طارق جمیل کے چینل طارق جمیل آفیشل کا نام تحریر ہے اور وہ اسے دکھا رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   گیس سلیب ریٹ پر نظر ثانی کی جائیگی ، اضافی بل 30 جون تک ایڈجسٹ کر دئیے جائیں گے، وفاقی وزیر پٹرولیم

ویڈیو کے دوران وہ کہتے ہیں کہ طارق جمیل آفیشل چینل پر سامعین اور ناظرین سے وقتا فوقتا بات کرتا رہوں گا اور مختلف بیانات کے کلپس بھی اپ لوڈ ہوتی رہیں گی۔تاہم اس موقع پر مولانا طارق جمیل نے ایک وضاحت کی کہ مجھ سے بہت سی ایسی غیر ذمہ دارانہ باتیں منسوب ہوتی رہتی ہیں حالانکہ میں اس سے بری الذمہ ہوں اور ایسی باتوں کو مجھ سے منسوب نہ کیا جائے۔