پنجاب پولیس میں کالی بھیڑوں کی پکڑ دھکڑ شروع،36 قابو آگئیں

لاہور(ایم آر شاہد سے) پنجاب پولیس میں انٹرنل اکاؤنٹیبلٹی کے عمل کو مزید تیز کر دیا گیا ہے اور ادارے میں موجود تمام ایسے عناصر سے پاک کر دیا جائے گا جو کسی بھی سطح پر فرائض میں غفلت ، کوتاہی ، لاپرواہی، اختیارات سے تجاوز اور کرپشن جیسے سنگین الزامات میں ملوث پائے جائیں گے۔

اس سلسلے میں کسی بھی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی اور محکمہ کو نقصان پہنچانے اور محکمہ کو بدنام کرنے والے تمام افراد کو باقیوں کے لیے مثال بنادیا جائے گا۔ یہ دائرہ کا ڈی ایس پی تک محدود نہیں رہے گا بلکہ جہاں بھی کوتاہی یا غفلت ثابت ہو گی وہاں سخت محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

آئی جی پنجاب، امجد جاوید سلیمی نے ان خیالات کا اظہار آج 36ڈی ایس پیز کے خلاف محکمانہ کارروائی کے بعد ان کی معطلی کے احکامات جاری کرتے ہوئے کیا۔ آئی جی پنجاب نے مزید کہا کہ پنجاب پولیس میں احتسابی عمل کو نچلے رینک سے لے کر اوپر تک بلحاظ عہدہ کیا جائے گا اور اس سلسلے میں کسی قسم کی نرمی نہیں کی جائے گی۔

یہ بھی پڑھیں:   کسی کو اٹھاکر پھانسی نہیں لگاسکتا، ساہیوال رپورٹ کا انتظار کیا جائے، عثمان بزدار

انہوں نے کہا کہ یہ وردی ہم سے یہ تقاضا کرتی ہے کہ ہم صرف اور صرف لوگوں کو انصاف فراہم کریں اور محکمہ پولیس میں انصاف کو بکنے نہیں دیا جائے گا اور اکاؤنٹیبلٹی کے سسٹم کو مزید شفاف بنایا جائے گا اور بھرپور صفائی کے موقع کے بعد جرم کے مطابق سزائیں دی جائیں گی۔

معطل ہونے والے ڈی ایس پیز میں ایس ڈی پی او مغلپورہ، فتح احمد،ڈی ایس پی انسداد اغواء برائے تاوان سکواڈ لاہور، سید ریاض علی شاہ،ایس ڈی پی او نوانکوٹ، لاہور، محمد ریاض،ڈی ایس پی مغلپورہ، سٹی ٹریفک پولیس لاہور، فاتح عالم، ڈی ایس پی آرگنائزڈ کرائم صدر لاہور، انور سعید طاہر، ڈی ایس پی اینٹی رابری لاہور، ملک داؤد احمد،ڈی ایس پی انارکلی سٹی ٹریفک لاہور، منصور ناجی،ڈی ایس پی سکیورٹی ڈویژن X-، لاہور، شیر بہادر،ڈی ایس پی موبائلز اقبال ٹاؤن لاہور، ناصر حنیف، ڈی ایس پی سنٹرل پولیس آفس، لاہور ارشد لطیف، ایس ڈی پی او فیروز والاشیخوپورہ، خالد محمود ڈار، ایس ڈی پی او پتوکی قصور، عاطف میراج، ایس ڈی پی او صدر منڈی بہاؤ الدین، طاہر مجید خان، ایس ڈی پی او ظفر وال نارووال، صابر حسین، ایس ڈی پی او ٹیکسلا راولپنڈی، جاوید حسن، ایس ڈی پی او حضرو، اٹک، سلیم اکبر، ایس ڈی پی او صدر سرگودھا، طاہر محمود، ایس ڈی پی او صدر قصور، ظفر اقبال،ٹریفک آفیسر سرگودھا، ڈی ایس پی محمد اقبال،ایس ڈی پی او بٹالہ کالونی فیصل آباد، لعل محمد کھوکھر،ایس ڈی پی او جڑانوالہ، فیصل آباد، نعیم عزیز،ڈی ایس پی آرگنائزڈ کرائم I-، فیصل آباد، سلیم حیدر شاہ ایس ڈی پی او شورکوٹ جھنگ، معین اشرف،ایس ڈی پی او گوجرہ، ٹوبہ ٹیک سنگھ، خالد محمود خان، ایس ڈی پی او دہلی گیٹ ملتان، حاکم علی خان، ایس ڈی پی او کروڑ پکا، لودھراں ، عبدالرحیم ،ڈی ایس پی ہیڈ کوارٹرز وہاڑی، مظہر احمد وٹو، ڈی ایس پی ہیڈ کوارٹرز لودھراں، محمد عظیم،ڈی ایس پی آرگنائزڈ کرائمI-، ڈی جی خان، رمیض احمد، ایس ڈی پی او چوبارہ، لیہ، فرحت رسول،ایس ڈی پی او جام پور، راجن پور، عاشق حسین، ایس ڈی پی او صدر، مظفر گڑھ، غضنفر عباس،ٹریفک آفیسر خانیوال، ڈی ایس پی محمد اشرف،ڈی ایس پی VIII-، ایس پی یو، پنجاب، خالد مسعود ناصر،ڈی ایس پی انوسٹی گیشن I-، فیصل آباد، طاہر مقصوداور ڈی ایس پی سنٹرل پولیس آفس لاہور، ملازم حسین شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   وزیراعظم عمران خان کو افغان صدر اشرف غنی کا ٹیلیفون