چیئر مین نیب نے بریگیڈئیر ریٹائرڈ اسد منیر کی خود کشی کی انکوائری خود کر نے کا فیصلہ کر لیا

اسلام آباد،لاہور (این این آئی)چیئر مین نیب جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال نے بریگیڈئیر ریٹائرڈ اسد منیر کی مبینہ خود کشی کی انکوائری خود کر نے کا فیصلہ کیا ہے ۔پیر کو نیب کی جانب سے جاری بیان کے مطابق چیئر مین نیب جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال نے بریگیڈئیر ریٹائرڈ اسد منیر کی مبینہ خود کشی کی انکوائری خود کر نے کا فیصلہ کیا ہے۔

اس سلسلے میں انہوںنے تمام متعلقہ ریکارڈ نیب راولپنڈی سے فوری طلب کرلیا ہے تاکہ قانون کے تقاضے پورے کئے جائیں ۔دریں اثنا قومی احتساب بیورو (نیب ) لاہور نے سابق چیئر مین متروکہ وقف املاک بورڈ صدیق الفاروق کے خلاف انکوائری شروع کر تے ہوئے جنوری 2016 سے لیکر اب تک لیز پر دی جانیوالی وقف املاک، اسکی منظوری دینے والے افرد کے ساتھ ساتھ بورڈ میں دئیے گئے ٹھیکوں کا ریکارڈ بھی طلب کر لیا ۔

یہ بھی پڑھیں:   عالمی بینک کا حکومت کی معاشی پالیسیوں پر اعتماد کا اظہار

بورڈ ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ سیکرٹری متروکہ وقف املاک بورڈ کو ڈپٹی ڈائریکٹر (کوآر ڈ)نیب لاہور کی جانب سے ریکارڈ فراہم کرنے کا مراسلہ موصول ہو ا ہے ۔جس میں ہدایت کی ہے کہ لاہور سمیت ملک بھر میں ایسی تمام وقف املاک اور زمینوں کی تفصیل فراہم کی جائے جن کا نظام بورڈ چلاتا ہے، لیز پر دی گئی املاک،ٹینڈرز کے اشتہارات،موصولہ بڈز،نیلامی پراسس، املاک کو بیچنے یا لیز پر دینے کے پراسس کے کاغذات فراہم کئے جائیں،لیز پر دی گئی املاک سے موصلہ رقوم کا حجم اور اکانٹس کاغذات بھی نیب کو فراہم کئے جائیں۔

یہ بھی پڑھیں:   لائن آف کنٹرول پر بھارتی فوج کی بلا اشتعال فائرنگ، پاک فوج کی بھرپور جوابی کاروائی

جنوری2016سے تاحال وقف املاک کو لیز پر دینے یا بیچنے کی منظوری دینے والے پراسس میں شامل ہیں ۔ اس کے ساتھ افراد(ملازمین ، بورڈ ممبران)کے نام، ان کے گھروں کے ایڈریس اور رابطہ نمبربھی فراہم کئے جائیں۔ وقف املاک کو لیزپر دینے یا بیچنے کے لئے موجود ایکٹ، قوانین کی کاپی بھی فراہم کی جائے۔مراسلہ میں کہا گیا ہے کہ آکشن کمیٹیوںمیں شامل کئے گئے افرادکے نام، ان کے عہدے،پتے اور فون نمبرکے علاوہ ،وقف املاک کو لیز پر دینے یا بیچنے کے لئے بنائے گئے ٹی او آرز بھی فراہم کئے جائیں۔

یہ بھی پڑھیں:   ہم این آر او مانگنے والے نہیں، خورشید شاہ

جنوری2016 سے تاحال کئے جانے والے اخراجات بشمول بجٹ ٹینڈرز،کوٹیشنز،کاغذات کے علاوہ سپلائی ورکس آرڈرز کی دستاویزات بھی طلب کر لی گئیں۔ نیب آرڈی نینس1999کے انڈر سیکشن 19 کے تحت سابق چیئر مین صدیق الفاروق کے خلاف انکوائری جاری ، معاونت کی غرض سے ریکارڈ فراہم کیا جائے۔ نیب مراسلہ میں سابق چیئر مین صدیق الفاروق کے دور کا تمام ریکارڈ27مارچ کی صبح تک فراہم کرنے کی ہدایت بھی کی گئی ہے۔