تین ہفتوں میں قوم کو بہت بڑی خوشخبری دوں گا، نواز شریف نے بیرون ملک اپنے بیٹوں کے نام پر اربوں روپے اکٹھے ہیں، بدقسمتی سے دین کا ٹھیکیدار مولانا فضل الرحمن بنا دیا، وزیراعظم عمران خان

اسلام آباد (این این آئی) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ تین ہفتوں میں قوم کو بہت بڑی خوشخبری دوں گا،بیوروکریٹ فیصلے نہیں کر رہے جس سے حکومت کی مشکلات بڑھ رہی ہیں، تمام سیاسی جماعتوں کی جانب سے نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد کرنے پر اتفاق کے باوجود سابق حکومتوں نے اس پر عمل نہیں کیا،پلوامہ واقعے میں کوئی پاکستانی ملوث نہیں، کالعدم تنظیموں کے پیچھے لگ گئے ہیں، انہیں ختم کرکے رہیں گے،بھارت میں عام انتخابات تک ہماری سرحدوں پر خطرات منڈلاتے رہیں گے، الیکشن جیتنے کیلئے مودی سرکار کسی بھی وقت کچھ بھی کر سکتی ہے ،مسلح افواج، حکومت اور قوم ہر چیلنج سے نمٹنے کیلئے ہردم تیار ہے، نواز شریف نے بیرون ملک اپنے بیٹوں کے نام پر اربوں روپے اکٹھے ہیں، بدقسمتی سے دین کا ٹھیکیدار مولانا فضل الرحمن اور ان جیسے دیگر لوگوں کو بنا دیا گیا ہے، نیوزی لینڈ کی وزیراعظم کا رد عمل پوری دنیا کیلئے قابل احترام ہے۔

جمعرات کو سینئر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے سابق وزیراعظم کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ نواز شریف نے بیرون ملک اپنے بیٹوں کے نام پر اربوں روپے اکٹھے کئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پی آئی اے میں بڑے بڑے کنویں ہیں جہاں اربوں روپے چلے جاتے ہیں، قومی ایئر لائن میں سیاسی بھرتیاں ہیں اور پی آئی اے میں خسارہ 400 ارب روپے ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی آئی اے کو پاؤں پر کھڑا کرنے کا پروگرام بنا رہے ہیں، اسٹیٹ لائف میں بھی خسارہ 50 ارب روپے کے لگ بھگ ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   سیٹ بیلٹ نہ باندھنے پر رکن قومی اسمبلی کا چالان

انہوں نے کہا کہ بیوروکریٹ فیصلے نہیں کر رہے جس سے حکومت کی مشکلات بڑھ رہی ہیں، بیوروکریٹ سمجھتے ہیں جتنی انکوائریاں کھل چکی ہیں نیب کے پاس افرادی قوت نہیں ہے۔ انہوں نے کہاکہ نیب بڑے بڑے لوگوں کو عبرتناک سزائیں دے گا، بڑوں کو سزا ملنے پر چھوٹے بدعنوان خودبخود راہ راست پر آجائیں گے۔انہوں نے کہاکہ تین ہفتوں میں قوم کو بہت بڑی خوشخبری دونگا۔وزیراعظم نے جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بدقسمتی سے ہم نے دین کا ٹھیکیدار مولانا فضل الرحمان اور ان جیسے دیگر لوگوں کو بنا دیا ہے ۔

انہوں نے کہا کہ تمام سیاسی جماعتوں نے نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد کرنے پر اتفاق کیالیکن سابق حکومتوں نے نیشنل ایکشن پلان پر عملی اقدامات نہیں اٹھائے۔ وزیراعظم نے کہا کہ پلوامہ واقعے میں کوئی پاکستانی ملوث نہیں، لیکن جیسے ہی جیش محمد کا نام لیا گیا تو سب کی انگلیاں پاکستان پر اٹھنے لگیں، اب ہم کالعدم تنظیموں کے پیچھے لگ گئے ہیں، انہیں ختم کرکے رہیں گے۔ پڑوسی ملکوں کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ بھارت میں عام انتخابات تک ہماری سرحدوں پر خطرات منڈلاتے رہیں گے۔

یہ بھی پڑھیں:   سانحہ ساہیوال کی 2 ایف آئی آر درج ،دونوں مقدمات کی دفعات کا فرق

انہوں نے کہا کہ پلوامہ واقعہ کے بعد بلوچستان میں دشمن کی دہشت گردی بڑھنے کی انٹیلی جنس رپورٹس ہیں۔وزیراعظم نے کہا کہ الیکشن جیتنے کیلئے مودی سرکار کسی بھی وقت کچھ بھی کر سکتی ہے لیکن پاکستان کی مسلح افواج، حکومت اور قوم ہر چیلنج سے نمٹنے کیلئے ہردم تیار ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم دشمن کو ایسی کسی بھی صورتحال کے باوجود کوئی فائدہ نہیں اٹھانے دیں گے، ہر جارحانہ اقدام کا منہ توڑ جواب دیں گے۔وزیراعظم نے کہا کہ بھارت کے علاوہ افغانستان اور ایران کے ساتھ سرحدوں کو محفوظ بنا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ میری نیوزی لینڈ کی وزیراعظم سے ٹیلیفون پر گفتگو ہوئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ نیوزی لینڈ کی وزیراعظم کا رد عمل پوری دنیا کیلئے قابل احترام ہے، کون سا مہذب ملک اپنی سرزمین سے دہشت گردوں کو آپریٹ کرنے کی اجازت دے سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نعیم راشد کی اہلیہ کی گفتگو ہی اصل اسلام ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   جھنگ : چیف ایگزیکٹیو آفیسر ہیلتھ ڈاکٹر رائے سمیع اللہ کا دیہی مرکز صحت موضع باغ کا اچانک دورہ، علاج معالجہ ، صفائی کی صورتحال ، سٹاف کی حاضری اور سیکورٹی کا جائزہ لیا، عرفان حیدر سیال کی رپورٹ

متحدہ عرب امارات کی جانب سے پاکستان کو پیٹرول کی فراہمی سے انکار کے حوالے سے چلنے والی خبروں کے حوالے سے عمران خان نے کہا کہ یو اے ای نے مؤخر ادائیگی پر پیٹرول کی فراہمی کا کبھی وعدہ نہیں کیا، یو اے ای سے مؤخر ادائیگی پر پیٹرول فراہمی کی درخواست ضرور کی، لیکن یو اے ای نے پہلے روز دو ٹوک بتا دیا تھا کہ مؤخر ادائیگی پر فراہمی کا کوئی قانون نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ سمگلنگ کی لعنت ملکی معیشت کو دیمک کی طرح چاٹ رہی ہے، ایف بی آر میں ٹیکس وصول اور ٹیکس پالیسی کے نظام کو الگ کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہاکہ افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کے مال پر کسٹم کراچی، بن قاسم بندرگاہوں پر لینے پر سوچا جا رہا ہے۔