جیالے اور پولیس آمنے سامنے ،پولیس اورپیپلزپارٹی کے کارکنوں میں تلخ جملوں کا تبادلہ

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)آصف علی زرداری اور ان کے بیٹے بلاول بھٹو زرداری منی لانڈرنگ کیس میں نیب کے سامنے پیشی کے موقع پرپی پی پی رہنما اورکارکن بڑی تعداد میں نیب دفترکے قریب پہنچے جہاں انہوں نے شدید نعرے بازی کی۔ نیب دفتر کے باہرپولیس اورپیپلزپارٹی کے کارکنوں میں تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا اور کارکنوں کی بڑی تعداد پولیس کے تمام حصارتوڑتے ہوئے نیب دفترکے باہرپہنچے اور بہت سے افراد دفتر کے اندر بھی داخل ہوگئے۔

پی پی پی کارکنوں نے میڈیا نمائندوں سے شدید بدتمیزی کی اور صحافیوں اور کیمرہ مینوں کو بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا۔ جیالوں کے تشدد سے متعدد پولیس اہلکاروں کے ساتھ ساتھ نجی ٹی وی کا ایک کیمرہ مین شدید زخمی ہوگیا جسے طبی امداد فراہم کرنے کے لیے اسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔

پی پی پی کارکنوں نے پولیس پر بھی پتھراؤ کیا اور وزیراعظم عمران خان کے خلاف نعرے بازی کی۔ پی پی کارکنوں کے درمیان آپس بھی لڑائی جھگڑا اور مار پیٹ ہوئی۔

کارکنوں نے بلاول کی گاڑی کو بھی گھیرے میں لے لیا، پولیس اہلکاروں نے لاٹھی چارج کرتے ہوئے کارکنوں کو نیب دفتر کے گیٹ سے دوردھکیلنے کی کوشش کی، تاہم انہیں قابو کرنے میں پولیس مکمل طورپرناکام ہوگئی، اس دوران سیاسی کارکنوں اور پولیس میں تصادم ہوا جس کے نتیجے میں علاقہ میدان جنگ بن گیا۔

یہ بھی پڑھیں:   خواجہ برادران کے جسمانی ریمانڈ میں مزید 7 روز کی توسیع

قمر زمان کائرہ نے بتایا کہ پولیس نے ہمارے 200 سے زائد کارکنان کو گرفتار کرلیا جبکہ 50 سے زائد لاپتہ ہیں۔ پی پی سینٹرل ایگزیکٹوکمیٹی کے سینئر رہنما بھی گرفتار شدگان میں شامل ہیں جن میں ندیم اصغر کائرہ، میرباز کھیتران اور سردار اظہرعباس شامل ہیں۔ قمرزمان کائرہ نے کہا کہ تشدد، پتھراوٴ اور لاٹھی چارج سے ہمیں روکا نہیں جاسکتا، انتظامیہ لاپتہ جیالوں کو فی الفور ظاہر کرے اور گرفتار جیالوں کو رہا کرے۔

یہ بھی پڑھیں:   اداکارہ کاجول نے بھی فیس بک پر انٹری دیدی

ذرائع کے مطابق آصف زرداری اور بلاول کوتین مقدمات میں 100 سے زائد سوالات پر مشتمل سوالنامے دیئے گئے اور دس سے پندرہ دن میں تحریری جواب جمع کرانے کی ہدایت کی گئی۔ نیب کی جوائنٹ ٹیم نے آصف زرداری اور بلاول سے ڈیڑھ گھنٹے تک پوچھ گچھ کی اور انہیں نیب دفتر میں الگ الگ نہیں بلکہ اکٹھے بٹھایا گیا جبکہ تفتیش کی آڈیو اور ویڈیو ریکارڈنگ بھی کی گئی۔ آصف زرداری اوربلاول بھٹو کو آئندہ آنے کی تاریخ نہیں دی گئی۔

یہ بھی پڑھیں:   عوام کی محبت اور خلوص نواز شریف کے ساتھ ہے، مریم نواز