بلاول بھٹو کا وفاقی حکومت پر قتل کی دھمکیوں کا الزام

کراچی(ویب ڈیسک)پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے وفاقی حکومت پر قتل کی دھمکیوں کا الزام عائد کیا ہے۔ ٹوئٹر پر بیان میں پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ میں نے کالعدم تنظیموں سے تعلق رکھنے والے وزرا کی برطرفی کا مطالبہ کیا لیکن حکومت نے مجھے قتل کی دھمکیوں، نیب نوٹسز اور ملک دشمن قرار دیکر اس کا جواب دیا، تاہم ان میں سے کوئی بھی ہتھکنڈا مجھے اپنے اصولی موقف سے نہیں ہٹاسکتا۔

بلاول نے ایک بار پھر مشترکہ قومی سلامتی پارلیمانی کمیٹی تشکیل دینے اور کالعدم جماعتوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ دہراتے ہوئے کہا کہ اگر حکومت چاہتی ہے کہ اپوزیشن انتہا پسندی اور کالعدم تنظیموں کے خلاف کریک ڈاؤن کو سنجیدہ کوشش سمجھے تو پھر ان کالعدم تنظیموں کو استثنی دینے کا وعدہ کرنے والے وزرا کو برطرف کرنا ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں:   پاکستان کے اندرونی معاملات میں بولنے پر فواد چوہدری کا بھارت کو کرارا جواب

رہنما پی پی پی نے کہا کہ انتخابی مہم میں کالعدم تنظیموں کی حمایت حاصل کرنیوالوں کو برطرف کیا جائے، کابینہ میں ان وزرا کی موجودگی تک حکومتی دعوؤں کو کوئی بھی سنجیدہ نہیں لے گا،

ان تنظیموں کو مرکزی دھارے میں لانے کی کوشش کرنے والے اور ان کے تربیتی کیمپوں کی حمایت کرنے والوں کو وفاقی کابینہ سے نکالنا ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں:   امریکہ نے پاکستان کی ایف سولہ طیارے استعمال کرنے کی بھارتی شکایت رد کردی

اس موقع پر بلاول نے شیخ رشید کی دفاع پاکستان کانفرنس کے جلسے سے خطاب اور اسد عمر کی انصار الامہ کے رہنما مولانا فضل الرحمن خلیل سے ملاقات کی ویڈیو و تصاویر بھی شیئر کیں۔