نیوزی لینڈ میں دہشتگردی کا بدترین واقعہ، 2 مساجد میں فائرنگ سے 49 نمازی شہید

کرائسٹ چرچ(مانیٹرنگ ڈیسک)نیوزی لینڈ کی 2 مساجد میں فائرنگ سے 49 نمازی شہید اور 48 زخمی ہوگئے جب کہ مسجد میں موجود بنگلادیشی کرکٹ ٹیم اس حملے میں بال بال بچ گئی۔ خبر ایجنسی کے مطابق نیوزی لینڈ کے شہرکرائسٹ چرچ کی 2 مساجد النوراورلینوڈ میں فوجی وردی میں ملبوس 28 سالہ انتہا پسند آسٹریلوی سفید فام برینٹن ٹیرنٹ کی فائرنگ سے 49 افراد جاں بحق اور 48 زخمی ہوگئے جب کہ دورہ پرموجود بنگلادیشی کرکٹ ٹیم بھی اس حملے میں بال بال بچ گئی۔

یہ بھی پڑھیں:   اردن میں سعودی عرب کے اتحادیوں کا اجلاس ،علاقائی امور کے بارے میں پالیسیوں پر غور

آسٹریلوی وزیراعظم نے تصدیق کی ہے کہ نیوزی لینڈ میں مسجد پر حملہ کرنے والا سفید فام برینٹن ٹیرنٹ آسٹریلوی شہری ہے جس کا تعلق مسلم مخالف انتہا پسندوں سے ہے۔

نیوزی لینڈ کی وزیراعظم جسینڈا آرڈرن نے نیوز کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ مساجد پر حملہ منصوبہ بندی سے کیا گیا۔ مسلح شخص کی جانب سے فائرنگ نماز جمعہ کے دوران کی گئی۔ مزید چارافراد کو حملے میں ملوث ہونے کے شبے میں گرفتار کیا گیا ہے جن میں ایک خاتون بھی شامل ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   یمنی حکومت کا حوثیوں پر الحدیدہ معرکے میں 1000 بچے جھونکنے کا الزام

جدید ہتھیاروں سے لیس حملہ آورنے اپنی ہولناک فائرنگ کی لائیو وڈیو ریکارڈنگ بھی کی۔ نیوزی لینڈ پولیس نے شہریوں کو متاثرہ مسجد سے دور رہنے کی ہدایت کردی ہے،

کرائسٹ چرچ کی دیگر مساجد خالی کرالیا گیا ہے جب کہ اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے۔ خبر ایجنسی کے مطابق شہر کے گرجا گھر اور اسکول بھی بند کردیئے گئے۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ فائرنگ نماز جمعہ کے 10 منٹ بعد شروع ہوئی جب کہ ایک شخص آٹو میٹک رائفل کے ساتھ مسجد میں داخل ہوا اور اندھا دھند فائرنگ شروع کردی۔

یہ بھی پڑھیں:   چین نے کینیا کی مرکزی بندرگاہ پر قبضہ کرلیا

فائرنگ کے دوران وہ اسلام اور تارکین وطن کے خلاف زہر اگلتا رہا۔