ارکان پنجاب اسمبلی کی تنخواہوں میں اضافہ موخر کر دیا، گورنر پنجاب کا دستخط نہ کرنے کا فیصلہ

Spread the love

لاہور(اے این این ) ارکان پنجاب اسمبلی کی تنخواہوں میں اضافہ موخر کر دیا گیا، گورنر پنجاب نے بل پر فوری دستخط نہ کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ چوہدری سرور بل پر محکمہ قانون سے بریفنگ لیں گے۔ گورنر پنجاب نے بل پر دستخط کرنے سے پہلے وزیراعظم سے مشاورت کا فیصلہ کر لیا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ابھی تک گورنر پنجاب نے بل پر دستخط نہیں کئے، گورنر پنجاب آئینی طور پر 10 دن کے اندر بل دوبارہ غور کے لئے واپس اسمبلی کو بھجوا سکتے ہیں۔ اسمبلی اگر دوبارہ من عن بل پاس کر دے تو گورنر دستخط کر نے کے پابند ہونگے۔ اگر گورنر 10 دن کے اندر بل پر دستخط نہیں کرتے تو بل از خود منظور تصور ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں:   480 سے زائد بدعنوان افسران نیب کی رضاکارانہ رقم واپسی کی اسکیم میں شامل

یاد رہے گزشتہ روز ارکان اسمبلی کی تنخواہوں میں اضافے کا بل پنجاب اسمبلی نے منظور کیا تھا جس کے تحت اراکین اسمبلی کی تنخواہ اورمراعات 83 ہزار ماہانہ سے بڑھا کر 2 لاکھ روپے تک کر دی گئی، ارکان اسمبلی کی بنیادی تنخواہ 18 ہزار روپے سے بڑھ کر 80 روپے ماہانہ ہو گئی۔

یہ بھی پڑھیں:   سانحہ ساہیوال؛ چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کی جوڈیشل انکوائری کی پیشکش کر دی

ڈیلی الاؤنس 1 ہزار سے بڑھ کر 4 ہزار، ہاؤس رینٹ 29 ہزار سے بڑھا کر 50 ہزار روپے کر دیا گیا۔اسی طرح یوٹیلیٹی الاؤنس 6 ہزار سے بڑھا کر 20 ہزار، مہمانداری کا ماہانہ الائونس 10 ہزار سے بڑھا کر 20 ہزار روپے کر دیا گیا، اس وقت ارکان اسمبلی کو 83 ہزار روپے ماہانہ تنخواہ اور مراعات مل رہی ہیں، نئے بل کی منظوری کے بعد ارکان اسمبلی کو ایک لاکھ 92 ہزار روپے تنخواہ اور مراعات ملیں گی۔

یہ بھی پڑھیں:   وفاقی وزیر نجکاری و ہوا بازی میاں سومرو کی اچانک طبیعت خراب