کالعدم تنظیموں سے تعلق رکھنے والے وفاقی کابینہ میں موجود تین وزراء4 کو فارغ کرے، بلاول بھٹو زرداری

کراچی(آن لائن)چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ حکومت نیشنل ایکشن پلان پر مکمل عمل درآمد کرے اور کالعدم تنظیموں سے تعلق رکھنے والے وفاقی کابینہ میں موجود تین وزراء4 کو فارغ کرے۔وزیر اعظم اپوزیشن کے خلاف تو بولتے ہیں مگر مودی اور کالعدم تنظیموں کے خلاف نہیں بولتے۔کالعدم تنظیموں کے اثاثے کہاں سے آتے ہیں اس پر بھی جے آئی ٹی بنائی جائے۔

سندھ اسمبلی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ہمارا مطالبہ ہے کہ نیشنل ایکشن پلان پر عمل کیا جائے اور ملک کو بچایا جائے مگر ہمیں حکومت کی نیت پر شک ہے کیوں کہ الیکشن کے دوران کالعدم تنظیموں کو ری پیک کرکے میدان میں اتارا گیا جس کا فائدہ تحریک انصاف کو ہوا۔تحریک انصاف کے وزیر خزانہ اسدعمر کی کالعدم تنظیم کے رہنما کیساتھ تصویر موجود ہے۔

انہوں نے نام لئے بغیر وزیر مملکت برائے داخلہ شہریار آفریدی سے متعلق کہا کہ ایک وفاقی وزیرکی ویڈیو سوشل میڈیا پر موجود ہے جس میں وہ ایک کالعدم تنظیم کے سربراہ کے متعلق کہہ رہا ہے کہ جب تک تحریک انصاف کی حکومت ہے کوئی ان کا کچھ نہیں کرسکتا۔بلاول بھٹو نے وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری کا بھی نام لئے بغیر الزام لگایا کہ ایک وفاقی وزیر ہر حکومت کا حصہ ہوتے ہیں غیر جمہوری زبان بولتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   بھارتی فورسز نے ایک اور پاکستانی کو گرفتار کرلیا، 4 سال سے لاپتہ محمد اقبال بھارت کی حراست میں

ان کے بھی کالعدم تنظیموں کے رہنماؤں کیساتھ روابط ہیں۔بلاول بھٹو نے مطالبہ کیا کہ حکومت تینوں وفاقی وزراء4 کو کابینہ سے فارغ کرے اور کالعدم تنظیم کے اثاثہ جات پر بھی جے آئی ٹی بنائی جائے کہ ان کے پاس اثاثے کہاں سے آئے؟ تین بار کے وزیراعظم کو جیل میں ڈال دیا جاتا ہے،مگر کالعدم تنظیموں کے لوگوں کو نہیں ڈالاجاتا۔منتخب لوگوں کے خلاف سوموٹو لئے جاتے ہیں کالعدم تنظیموں کے دہشت گردوں کے خلاف کوئی سوموٹو نہیں لیتا۔

انہوں نے کہا کہ مشرف کے بنائے گئے ادارے نے اسپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی کو اسلام آباد سے گرفتار کیا، جس کی ہم مذمت کرتے ہیں اور اسپیکر سندھ اسمبلی پیپلز پارٹی کا عہدہ نہیں ہے، آغا سراج درانی کی گرفتاری سندھ اسمبلی پر حملہ ہے جب کہ انہیں صرف الزام کی بنیاد پر اٹھایا گیا نیب کے پاس ان کے خلاف کوئی ثبوت نہیں ہیں۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ آغاسراج کے گھر پرچھاپہ چادر اور چار دیواری کی پامالی ہیاسے ہمارا مزہب ہماری ثقافت ہماراکلچر برداشت نہیں کرتا۔ گرفتاری کے فوراً بعد گھر پر چھاپہ مارنے کا مطلب نیب کے پاس کوئی ثبوت نہیں تھا یہاں تو گرفتاری کے بعد چرس اور شراب کی بوتلیں ڈال دی جاتی ہیں نیب والے گھر پر ثبوت تلاش کررہے تھے یا خود پلانٹ کررہے تھے؟افسوس ہے کہ چیئرمین نے انسانی حقوق کی خلاف ورزی پر کوئی ایکشن نہیں لیاہمیں کیا میسج دیا جارہا ہے

یہ بھی پڑھیں:   یوم یکجہتی کشمیر : 5 فروری منگل کو ملک بھر میں عام تعطیل کا اعلان

مطالبہ کرتا ہوں کہ ایکشن لیں ورنہ ہمیں ایکشن لینا پڑے گاانہوں نے کہا کہ نیب کو پولیٹیکل انجینئرنگ کیلئے بنایا گیا، اگر کسی فرشتے کو بھی چیئرمین نیب بنادیں یہ سیاسی انجینیرنگ کا کام ہوگا نیب پولیٹیکل انجینئرنگ میں استعمال میں نہ ہوجمہوری معاشروں۔میں کہیں بھی ایسا نہیں ہوتانیب کالا قانون ہے ہماری ناکامی ہے نیب میں ریفارمز نہیں لاسکیمیثاق جمہوریت میں طے کیا تھا کہ نیب کو ختم کردیا جائے گا

بلاول بھٹو زرداری نے کہا بے نامی اکاؤنٹس میں 6 ماہ سے ہماری کردار کشی کی گئی، ہمارا کیس انڈر ٹرائل ہے ہمیں کوئی نوٹس نہیں دیا گیا جعلی اکاؤنٹس میں جے آئی ٹی بنائی گئی جس میں ایک ادارے کو شامل کیا گیاپوری قوم نے دیکھا کہ مجھے کیس میں گھسیٹا جارہا ہے، عدالت نے پوچھا کس کے کہنے پر میرا نام جے آئی ٹی میں ڈالا گیا، اس کا جواب آج تک نہ ملا، چیف جسٹس نے کہا کہ بلاول بے گناہ ہے اس کا نام جے آئی ٹی اور ای سی ایل سے نکالا جائے۔

مگر تحریری فیصلے میں ایسا زکر نہیں ہوتا شاید فیصلہ کسی اور نے لکھا تھا۔جب ری ویو میں گئے تو عدالت نے کہا آپ نے غلط سنا، لیکن میڈیا نے ریکارڈ کیا عدالت بھی اپنا ریکارڈ چیک کرلے کہ چیف جسٹس نے یہی ریمارکس دئے تھے۔بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ہر مرتبہ ہمارا ٹرائل راولپنڈی میں کیا جاتا ہے اور یہ سب سیاسی انجینئرنگ کے لیے کیا گیا،

یہ بھی پڑھیں:   وزیر اعظم کے مقابلے حمزہ شہباز، آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو زرداری کی آمدن میں اضافہ

حالانکہ کے قانون کہتا ہے جہاں کرائم ہوگا یا جہاں ملزم ہوگا وہاں ٹرائل ہوگا مگر کیس پنڈی منتقل کیا جارہا ہے بھٹوز کیلئے پنڈی کو ہمیشہ کربلا بنایا جاتا ہے پنڈی میں ایسا کیا ہے۔کیس سندھ کا ہے ایف آئی آر سندھ کی ہے تو سندھ میں سنا جائے۔بلاول بھٹو نے مزید کہا کہ پیپلزپارٹی نظریاتی پارٹی ہے، ہم 18 ترمیم، جمہوریت پر کوئی سمجھوتا نہیں کریں گے۔

اپنے نظریے پر قائم ہیں تین نسلوں سے جدوجہد کررہے ہیں جب سے سیاست میں ہوں دہشت گردوں اور کالعدم تنظیموں کے خلاف بات کرتا آرہاہوں۔نیشنل ایکشن پلان پر عمل کیا جائے اور کالعدم تنظیموں کے خلاف کاروائی کی جائے۔وزیر اعظم اپوزیشن کے خلاف تو بولتے ہیں مگر مودی اور کالعدم تنظیموں کے خلاف نہیں بولتے۔

انہوں نے کہا کہ چیلنج کرتاہوں سندھ کے اسپتال ملک کے سب سے بہتر اسپتال ہیں، این آئی سی وی ڈی امراض قلب کا دنیا کا سب سے بڑا اسپتال ہے ، یہ سندھ کے اسپتال ہیں ہم آپ کو اپنا حق چھیننے نہیں دیں گے، اپنے حق کیلیے ہم عدالت بھی جارہے ہیں اور میں عوام میں بھی جارہا ہوں۔