بھارت کا ایران سے تیل کی خریداری کا فیصلہ، امریکا کے ساتھ ایران پابندیوں سے رعایت کی مدت میں توسیع کے لیے مذاکرات جاری

نئی دہلی (زرائع) بھارت، ایران سے 3 لاکھ بیرل یومیہ تیل کی خریداری جاری رکھنا چاہتا ہے جس کے لیے امریکا کے ساتھ پابندیوں سے رعایت کی مدت میں توسیع کے لیے مذاکرات بھی جاری ہیں۔

بین الاقومی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق ایک سرکاری عہدیدار کا کہنا تھا کہ بھارت نے ایرانی تیل کی خریداری میں کمی ضرور کی ہے لیکن پابندیوں سے رعایت کے لیے بھی کوششیں جاری ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   نیوزی لینڈ قتل عام کے جلو میں پدرانہ شفقت کے لازوال جذبے کی عکاس شاہکار تصویر

یہ مذاکرات، حال ہی میں واشنگٹن اور نئی دہلی کے درمیان مسئلہ بن کر سامنے آئے اور امریکا نے بھارت کا ترجیحی درجہ ختم کرنے کا فیصلہ کیا، جس کے تـحت امریکا کو جانے والی بھارت کی 5 ارب 60 کروڑ ڈالر سے زائد کی برآمدات پر ڈیوٹی سے استثنیٰ حاصل تھا۔

یہ بھی پڑھیں:   ٹرمپ نے ترکی کو معاشی طور پر تباہ کرنے کے بیان پر یوٹرن لے لیا

واضح رہے کہ بھارت کو جنرلائزڈ سسٹم آف پریفرنس (جی ایس پی) کا بہت زیادہ فائدہ پہنچتا تھا جو 1970 میں متعارف کروایا گیا تھا اور اب اس کی شمولیت ختم کرنے کا فیصلہ واشنگٹن میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اقتدار سنبھالنے کے بعد سے اب تک بھارت کے خلاف سب سے سخت اقدام ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   حوثی ملیشیا زخمی ساتھیوں کے جسمانی اعضاء نکال کر بیچنے لگے!