افغان طالبان کا امریکی حکومت کے بیان سے اختلاف

کابل (زرائع) افغان طالبان نے امریکی حکومت کے اس بیان سے اختلاف کیا کہ دوحہ میں امریکی حکومت کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کے دوران افغان حکومت کے ساتھ بات چیت اور جنگ بندی کے امور زیر بحث آئے۔

اس حوالے سے جاری بیان میں طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا تھا کہ ’مذاکرات کے اس دور میں 2 امور زیر غور رہے، جن میں مغربی افواج کا افغانستان سے انخلا اور ملک کو بین الاقوامی عسکریت پسندی کا گڑھ بننے سے روکنا شامل ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   اسد رجیم نے سفارت کاروں کے لیے خصوصی ویزوں کا اجراء روک دیا

فرانسیسی خبر رساں ادار ‘اے ایف پی’ کی رپورٹ کے مطابق انہوں نے ان دونوں مسائل کی جانب اشارہ کرتے ہوئے انہیں خارجی مسائل قرار دیا۔اپنے بیان میں طالبان ترجمان کا کہنا تھا کہ ’دیگر مسائل جو اندرونی نوعیت کے تھے یا امریکا سے منسلک نہیں تھے، ان کے بارے میں بات چیت نہیں ہوئی۔

یہ بھی پڑھیں:   ڈچ سیاستدان گیرٹ وائلڈر کے ساتھی نے اسلام قبول کرلیا

واضح رہے کہ دوحہ میں افغان طالبان کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کے حالیہ دور کے بعد امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے ترجمان رابرٹ پیلینڈینو نے جو بیان دیا تھا وہ اس سے یکسر مختلف تھا۔انہوں نے کہا تھا کہ ’مذاکرات میں جن 4 مسائل پر توجہ رہی وہ ایک دوسرے سے وابستہ اور مستقبل کی حکومت ترتیب دینے سے متعلق ہیں’۔

یہ بھی پڑھیں:   خواتین کے ریسلنگ مقابلے کے بعد سعودی عرب کی سڑکوں پر ”شیطانی مجسموں“ کی پریڈ، ایسا کام ہو گیا کہ کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ ہوگا، عوام شدید مشتعل

ان مسائل کی نشاندہی کرتے ہوئے امریکی ترجمان نے بتایا تھا کہ ’دہشت گردی، افواج کا انخلا، بین الافغان مذاکرات اور جنگ بندی شامل ہیں، جن پر بات چیت میں خاصی پیش رفت ہوئی۔

خیال رہے کہ امریکا اور طالبان کے درمیان ہونے والے مذاکرات کا حالیہ دور اب تک کا سب سے طویل سلسلہ تھا جو 25 فروری کو قطر کے دارالحکومت دوحہ میں شروع ہوا تھا۔