ٹرمپ نے ڈرون حملوں سے ہلاکت پر سی آئی اے سے جواب طلب کرنے کی پالیسی کو منسوخ کردیا

واشنگٹن (زرائع) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ڈرون حملوں سے شہریوں کی ہلاکت پر سینٹرل انٹیلی جنس ایجنسی (سی آئی اے) سے جواب طلب کرنے کی پالیسی کو منسوخ کردیا۔

فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق اس اقدام نے سابق صدر باراک اوباما کی جانب سے 2 سال پرانے حکم کو تبدیل کردیا، جو انسداد دہشت گردی اور فوجی آپریشن میں اہداف کو نشانہ بنانے کے لیے ڈرونز کے بے دریغ استعمال کے بعد شفافیت کے طور پر سامنے آیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:   کلبھوشن کی بریت کیس ،عالمی عدالت انصاف نے بھارتی درخواست مسترد کردی

امریکی صدر کا یہ اقدام سی آئی اے کو حملے کرنے کے لیے زیادہ سے زیادہ طول دے گا کیونکہ ڈونلڈ ٹرمپ کا خطرناک ڈرون آپریشن کے لیے فوج کے بجائے خفیہ ایجنسیوں پر انحصار بڑھ رہا ہے۔

دوسری جانب انسانی حقوق کے گروہوں کی جانب سے فوری طور پر اس اقدام پر تنقید کی گئی اور کہا گیا کہ یہ ڈرون حملوں میں شفافیت اور احتساب کے لیے کی گئی ان سخت کوششوں کو ختم کردے گا، جو 11 ستمبر 2001 کو امریکا پر القاعدہ کے حملے کی روشنی میں امریکی حکمت عملی کا مرکز بنی تھی۔

یہ بھی پڑھیں:   صدر ڈونلڈ ٹرمپ جلد ملک میں قومی ایمرجنسی نافذ کرنے والے ہیں، مِچ میک کونیل

اس بارے میں ہیومن رائٹس فرسٹ کی ریٹا سیمیون کا کہنا تھا کہ ’ٹرمپ انتظامیہ کا ایکشن غیر ضروری اور خطرناک قدم ہے جو مہلک طاقت کے استعمال کے لیے شفافیت اور احتساب کو پیچھے کردے گا اور یہ شہریوں کی ہلاکت کی وجہ بنے گا‘۔

خیال رہے کہ ٹرمپ کے اقدام نے سابق امریکی صدر باراک اوباما کی جانب سے یکم جولائی 2016 کو دیے گئے اس حکم کو منسوخ کردیا، جس میں امریکا کی نیشنل انٹیلی جنس کے ڈائریخٹر کے لیے ضروری تھا کہ وہ فعال جنگ زدہ علاقوں کے باہر ’دہشت گرد اہداف‘ کے خلاف کی گئی کارروائیوں کی تعداد اور اس کے نتیجے میں جنگجوؤں اور شہریوں کی ہلاکت کی تعداد کا تعین کرکے سالانہ رپورٹ دیں۔

یہ بھی پڑھیں:   امریکی صدر نے اپنا ’’اسٹیٹ آف دی یونین‘‘ خطاب منسوخ کر دیا