سانحہ ساہیوال: سرکاری عہدے سے ہٹانے جانے والے سی ٹی ڈی سربراہ کو دوبارہ تعینات کر دیا گیا

اسلام آباد (آن لائن)سانحہ ساہیوال کے بعد سرکاری عہدے سے ہٹانے جانے والے سی ٹی ڈی سربراہ رائے طاہر خان کو دوبارہ اینٹی ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کا سربراہ تعینات کر دیا گیا ہے۔میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ رائے طاہر کو سانحہ ساہیوال کی رپورٹ سامنے آنے کے بعد عہدے پر بحال کیا گیا ہے۔اس سے قبل رائو سرور کو سی ٹی ڈی کا اضافی چارج دیا گیا تھا۔

رپورٹس میں مزید بتایا جا رہا ہے کہ ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی رائے طاہر کل سے عہدے کا چارج سنبھال لیں گے۔واضح رہے سانحہ ساہیوال کی جے آئی ٹی رپورٹ مکمل کر لی گئی ہے۔ جے آئی ٹی نے اپنی رپورٹ میں خلیل اور اس کی فیملی کو بیگناہ جبکہ ذیشان کو دہشتگرد قرار دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   جنرل طارق کھوسہ نے قائم ٹاسک فورس (ٹی ایف اے آر جی) سے استعفیٰ دے دیا

رپورٹ میں بتایا گیا کہ ذیشان کے دہشتگردوں کے ساتھ روابط تھے، فرانزک ماہرین کو ذیشان کے فون سے دہشتگردوں سے رابطوں کے درجنوں پیغامات ملے ہیں۔فرانزک ماہرین نے ذیشان کے موبائل سے حاصل ہونے والے ان پیغامات کو دو صفحوں پر لکھا جو ذیشان اور دہشتگردوں کے مابین گفتگو کے پیغامات تھے اور ان دو صفحات کو جے آئی ٹی کے حوالے کر دیا۔

یہ بھی پڑھیں:   نقیب اللہ قتل کیس: راؤ انوار کے گھر کو سب جیل قرار دینے کے خلاف درخواست خارج کردی

رپورٹ کے مطابق ذیشان اکثر دہشتگردوں کو اپنے گھر میں پناہ بھی دیتا تھا اور باہر سے تالا لگا کر جاتا تھا ، محلے میں یہی ظاہر کیا جاتا تھا کہ اندر کوئی نہیں ہے جبکہ کمرے کے اندر دہشتگرد موجود ہوتے تھے۔انٹیلی جنس رپورٹ ذیشان سے متعلق تھی جس پر کارروائی کی گئی۔ رپورٹ میں اس بات کا اعتراف کیا گیا کہ خلیل کی فیملی کو بچایا جا سکتا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:   ایک لاکھ گھروں کی تعمیر اگلے ماہ اپریل میں شروع، لاہور پریس کلب کے ممبران کا دو فیصد کوٹہ مختص

رپورٹ کے مطابق سی ٹی ڈی اہلکاروں پر فائرنگ کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔ گرفتار کیے گئے چھ سی ٹی ڈی اہلکار ہی فائرنگ میں ملوث تھے۔ سی ٹی ڈی نے اپنے اختیارات سے تجاوز کیا۔ رپورٹ میں ریکارڈ میں رد و بدل کرنے والے سی ٹی ڈی افسران کے خلاف کارروائی کی سفارش بھی کی گئی۔

جے آئی ٹی رپورٹ میں بتایا گیا کہ ذیشان کے دہشتگرد کارروائیوں میں ملوث ہونے کے جے آئی ٹی کے پاس واضح اور ٹھوس ثبوت ہیں۔