فیاض الحسن چوہان ہندو برادری کے بارے میں دیے گئے بیان کی وجہ سے مشکل میں پھنس گئے، شدید تنقید

لاہور (زرائع) پنجاب کے وزیر اطلاعات و ثقافت اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما فیاض الحسن چوہان اپنے ایک بیان میں ہندو برادری کے بارے میں دیے گئے تضحیک آمیز ریمارکس کے باعث مشکل میں پھنس گئے۔

جس پر انہیں نہ صرف خود اپنی ہی جماعت ‘پی ٹی آئی’ کے سینئر رہنماؤں کی جانب سے سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑا بلکہ ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل نے بھی اپنے ایک پیغام میں ان کے بیان کی نفی کی۔

بعد ازاں ان کے بیان کی ویڈیو سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر وائرل ہوگئی جس پر صارفین نے انہیں آڑے ہاتھوں لیا اور حکومت سے ان کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔

یہ بھی پڑھیں:   وزیر اعظم کی طورخم بارڈر کو 24 گھنٹے کھلا رکھنے کی ہدایت

اس سلسلے میں پی ٹی آئی کے آفیشل ٹوئٹر اکاؤنٹس سے کیے گئے ٹوئٹ میں کہا گیا کہ تحریک انصاف سوشل میڈیا ان توہین آمیز ریمارکس کی مذمت کرتی ہے، ٹوئٹ میں قائدِ اعظم محمد علی جناح کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ’آپ کا تعلق کسی بھی مذہب، ذات اور نسل سے ہو، ریاست کو اس سے کوئی سروکار نہیں‘۔

دوسری جانب پی ٹی آئی سے تعلق رکھنے والی وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق شیریں مزاری نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ٹوئٹ کر کے صریح الفاظ میں فیاض الحسن چوہان کے بیان کی مذمت کی۔

وزیر اعظم کے معاون برائے سیاسی امور نعیم الحق نے اپنے ٹوئٹ میں کہا کہ فیاض الحسن چوہان کا بیان سخت کارروائی کا متقاضی ہے اور وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کی مشاورت سے صوبائی وزیر کے خلاف اقدام اٹھایا جائے گا۔

اس کے علاوہ وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر نے بھی ردعمل میں دیے گئے اپنے پیغام میں صوبائی وزیر پنجاب کو بآور کروایا کہ پاکستان کا پرچم صرف سبز نہیں بلکہ یہ اقلیتوں کی نمائندگی کرنے والے سفید رنگ کے بغیر نامکمل ہے۔