گواہی میں اتنا جھوٹ، 12 سال بعد ملزمان کو بری کردیا

اسلام آباد (زرائع) چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان آصف سعید کھوسہ نے جھوٹی گواہی سے متعلق مزید ایک کیس میں ریمارکس دیے ہیں کہ مرنے والا اور مارنے والا سب فارغ ہوجائیں گے، مقدمے میں قصورعدالت کا نہیں گواہ کا ہوگا۔چیف جسٹس کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے قتل کے مقدمے کی سماعت کی۔

دوران سماعت عدالت نے ریمارکس دیے کہ عبداللہ ناصر اور طاہرعبداللہ پر 2007 میں محمد صدیق کے قتل کا الزام تھا، ٹرائل کورٹ نے دونوں ملزمان کو سزائے موت دی اور ہائیکورٹ نے سزا عمر قید میں بدل دی۔

یہ بھی پڑھیں:   غربت کے خاتمے کے لئے 10سالہ منصوبہ تیار

عدالت نے مزید ریمارکس دیئے کہ واقعے کے دوران عبدالمجید زخمی ہوا جس کے مطابق وہ آدھا گھنٹہ زمین پر پڑا رہا، گواہ کی اس بات پریقین کرنا ناممکن ہے کیوں کہ گواہ نے عدالت میں کچھ اور بیان دیا، جس میں قتل کا محرک زمین بتایا گیا جبکہ ریکارڈ میں واضح نہیں تھا۔

یہ بھی پڑھیں:   یوٹیوب نے عالمی شہرت یافتہ عالم دین مولانا طارق جمیل کو گولڈن پلے بٹن کے ایوارڈ سے نوازا دیا

چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیئے کہ مرنے والا اور مارنے والا سب فارغ ہوجائیں گے قصور عدالت کا نہیں گواہ کا ہوگا، گواہی میں اتنا جھوٹ شامل تھا کہ یقین کرنا مشکل لگا۔ عدالت نے گواہوں کے بیانات میں تضاد پر 12 سال بعد دونوں ملزمان کو بری کردیا۔

یکم مارچ کو سپریم کورٹ نے 52 مرتبہ سزائے موت پانے والے ملزم صوفی بابا کو بری کردیا تھا۔اس سے قبل 12 فروری کو سپریم کورٹ نے قتل کے الزام میں عمر قید کا سامنا کرنے والے ملزم اسفند یار کو جرم ثابت نہ ہونے پر 10 سال بعد بری کردیا اور مجسٹریٹ کے رویے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے، انہیں ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا ہے۔