حکومت کا ملک میں عسکری تنظیموں کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کے آغاز کا فیصلہ

اسلام آباد (زرائع) پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت نے ملک میں شدت پسند اور عسکری تنظیموں کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کے آغاز کا فیصلہ کرلیا۔

زرائع کی رپورٹ کے مطابق اس حوالے سے صحافیوں کو دی جانی والی ایک خصوصی بریفنگ میں بتایا گیا کہ جیسے ہی اس سلسلے میں پیش رفت ہوگی اس کے اثرات خودبخود ظاہر ہوجائیں گے۔

یہ بھی پڑھیں:   ایک لاکھ گھروں کی تعمیر اگلے ماہ اپریل میں شروع، لاہور پریس کلب کے ممبران کا دو فیصد کوٹہ مختص

انتہا پسند تنظیموں کے خلاف کارروائی کی تصدیق وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے ڈان نیوز کے پروگرام ’دو رائے‘ میں بھی دی تھی۔ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے سیاسی اتفاق رائے سے نیشنل ایکشن پلان (این اے پی) کے تحت تمام عسکری تنظیموں کے خلاف سخت کارروائی کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   اوگرا کرپشن کیس: معروف بزنس کے وارنٹ گرفتاری جاری

تاہم وزیر اطلاعات نے عسکری تنظیموں مثلاً جیشِ محمد (جس پر مبینہ طور پر پلوامہ میں ہونے والے بھارتی فورسز پر حملے کا الزام ہے)، جماعت الدعوہ اور اس کی فلاحی تنظیم فلاحِ انسانیت کے خلاف کارروائی کا کوئی وقت دینے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ اس کا فیصلہ سیکیورٹی فورسز کریں گی۔

یہ بھی پڑھیں:   پی آئی اے میں مسافروں کا سامان چوری کرنے والا64 ملازمین کا گروہ پکڑا گیا

واضح رہے کہ قومی سلامتی کمیٹی کے 21 فروری کو ہونے والے اجلاس میں ’کالعدم تنظیموں کے خلاف کارروائی تیز کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا‘، اس کے ساتھ جماعت الدعوہ اور فلاحِ انسانیت پر دوبارہ پابندی لگانے کا بھی حکم دیا گیا تھا۔