قبر میں لٹاتے وقت میت کا چہرہ دیکھناجائز ہے یا نہیں؟

Spread the love

سعودی ادارہ امر بالمعروف ونہی عن المنکر کے سربراہ ڈاکٹر عبدالرحمن السند نے کہا ہے کہ قبر میں لٹاتے وقت میت کا چہرہ کھولنا جائز نہیں۔اس کے جواز کی کوئی دلیل کہیں سے ثابت نہیں۔ نہ جانے کیوں بعض لوگ قبر میں میت کا چہرہ کھولنا ضروری سمجھتے ہیں۔

بعض لوگ مستحب سمجھ کر میت کا چہرہ کھولنے کا اہتمام کرتے ہیں۔ ڈاکٹر السند نے کہا کہ کفن کے سر، درمیانے حصے اور قدموں کی طرف کفن میں لگی گانٹھیں کھول دینا کافی ہیں۔ چہرہ کھولنے کی کوئی ضرورت نہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   چینی مالکان کا ملازمین کے پاؤں دھوکر ان کی خدمات کا اعتراف

مستحب ہے کہ متعلقہ اشخاص قبر کو ایک متوسط انسان کے قد کے لگ بھگ کھو دیں اور میت کو نزدیک ترین قبرستان میں دفن کریں ماسوا اس کے کہ جو قبرستان دور ہو وہ کسی وجہ سے بہتر ہو مثلاً وہاں نیک لوگ دفن کئے گئے ہوں یا زیادہ لوگ وہاں فاتحہ پڑھنے جاتے ہوں۔

یہ بھی مستحب ہے کہ جنازہ قبر سے چند گز دور زمین پر رکھ دیں اور تین دفعہ کرکے تھوڑا تھوڑا قبر کے نزدیک لے جائیں اور ہر دفعہ زمین پر رکھیں اور پھر اٹھالیں اور چوتھی دفعہ قبر میں اتار دیں اور اگر میت مرد ہو تو تیسری دفعہ زمین پر اس طرح رکھیں کہ اس کا سر قبر کی نچلی طرف ہو اور چوتھی دفعہ سر کی طرف سے قبر میں داخل کریں اور اگر میت عورت ہو تو تیسری دفعہ اسے قبرکے قبلے کی طرف رکھیں اور پہلو کی طرف سے قبر میں اتار دیں اور قبر میں اتارتے وقت ایک کپڑا قبر کے اوپر تان لیں۔

یہ بھی پڑھیں:   سعودی عرب ، حائل میں 1000 سال قبل مسیح کے آثار قدیمہ کا انکشاف

یہ بھی مستحب ہے کہ جنازہ بڑے آرام کے ساتھ تابوت سے نکالیں اور قبر میں داخل کریں اور وہ دعائیں جنہیں پڑھنے کے لئے کہا گیا ہے دفن کرنے سے پہلے اور دفن کرتے وقت پڑھیں اور میت کو قبر میں رکھنے کے بعد اس کے کفن کی گرہیں کھول دیں اور اس کا رخسار زمین پر رکھ دیں اور اس کے سر کے نیچے مٹی کا تکیہ بنا دیں اور اس کی پیٹھ کے پیچھے کچی اینٹیں یا ڈھیلے رکھ دیں تاکہ میت چت نہ ہو جائے اور اس سے پیشتر کہ قبر بند کریں ۔

یہ بھی پڑھیں:   آسٹریلوی شخص نے انگلیوں سے مگرمچھ کی آنکھیں پھوڑ کر اپنی جان بچالی