قبر میں لٹاتے وقت میت کا چہرہ دیکھناجائز ہے یا نہیں؟

سعودی ادارہ امر بالمعروف ونہی عن المنکر کے سربراہ ڈاکٹر عبدالرحمن السند نے کہا ہے کہ قبر میں لٹاتے وقت میت کا چہرہ کھولنا جائز نہیں۔اس کے جواز کی کوئی دلیل کہیں سے ثابت نہیں۔ نہ جانے کیوں بعض لوگ قبر میں میت کا چہرہ کھولنا ضروری سمجھتے ہیں۔

بعض لوگ مستحب سمجھ کر میت کا چہرہ کھولنے کا اہتمام کرتے ہیں۔ ڈاکٹر السند نے کہا کہ کفن کے سر، درمیانے حصے اور قدموں کی طرف کفن میں لگی گانٹھیں کھول دینا کافی ہیں۔ چہرہ کھولنے کی کوئی ضرورت نہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   بھارت میں خاتون نے اپنی 6 سالہ بھتیجی کو ذبح کرکے اس کا خون پی لیا

مستحب ہے کہ متعلقہ اشخاص قبر کو ایک متوسط انسان کے قد کے لگ بھگ کھو دیں اور میت کو نزدیک ترین قبرستان میں دفن کریں ماسوا اس کے کہ جو قبرستان دور ہو وہ کسی وجہ سے بہتر ہو مثلاً وہاں نیک لوگ دفن کئے گئے ہوں یا زیادہ لوگ وہاں فاتحہ پڑھنے جاتے ہوں۔

یہ بھی مستحب ہے کہ جنازہ قبر سے چند گز دور زمین پر رکھ دیں اور تین دفعہ کرکے تھوڑا تھوڑا قبر کے نزدیک لے جائیں اور ہر دفعہ زمین پر رکھیں اور پھر اٹھالیں اور چوتھی دفعہ قبر میں اتار دیں اور اگر میت مرد ہو تو تیسری دفعہ زمین پر اس طرح رکھیں کہ اس کا سر قبر کی نچلی طرف ہو اور چوتھی دفعہ سر کی طرف سے قبر میں داخل کریں اور اگر میت عورت ہو تو تیسری دفعہ اسے قبرکے قبلے کی طرف رکھیں اور پہلو کی طرف سے قبر میں اتار دیں اور قبر میں اتارتے وقت ایک کپڑا قبر کے اوپر تان لیں۔

یہ بھی پڑھیں:   ہیروں کی تلاش میں مدد دینے والا پودا دریافت

یہ بھی مستحب ہے کہ جنازہ بڑے آرام کے ساتھ تابوت سے نکالیں اور قبر میں داخل کریں اور وہ دعائیں جنہیں پڑھنے کے لئے کہا گیا ہے دفن کرنے سے پہلے اور دفن کرتے وقت پڑھیں اور میت کو قبر میں رکھنے کے بعد اس کے کفن کی گرہیں کھول دیں اور اس کا رخسار زمین پر رکھ دیں اور اس کے سر کے نیچے مٹی کا تکیہ بنا دیں اور اس کی پیٹھ کے پیچھے کچی اینٹیں یا ڈھیلے رکھ دیں تاکہ میت چت نہ ہو جائے اور اس سے پیشتر کہ قبر بند کریں ۔

یہ بھی پڑھیں:   اہم یورپی ملک کا عجیب و غریب چور گرفتار، طریقہ واردات نے پوری دنیا کو حیران کر دیا