بھارت کو پلوامہ حملے میں تحقیقات اور دوطرفہ مسائل پر مذاکرات کی پیشکش، عمران خان کے بیان نے پوری قوم کا دل خوش کردیا

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا خطے میں امن کے لیے مذاکرات ہی واحد راستہ ہیں،بھارت کو پلوامہ حملے میں تحقیقات اور دوطرفہ مسائل پر مذاکرات کی پیشکش کی،بھارت سے دہشت گردی سمیت تمام مسائل پر گفتگو کے لیے مذاکرات پر تیار ہے.

تفصیلات کے مطابق وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا جس میں ملکی سلامتی کی تازہ صورتحال سمیت 12 نکاتی ایجنڈے پر غور کیا گیا جب کہ وزارت خارجہ اور وزارت دفاع کے حکام نے پاک بھارت کشیدگی پر بریفنگ دی ، وزیراعظم عمران خان نے امن اقدامات پر حکومتی حکمت عملی اور وزیر خارجہ نے کابینہ کو سفارتی رابطوں اور کوششوں پر اعتماد میں لیا ،

یہ بھی پڑھیں:   تین ہفتوں میں قوم کو بہت بڑی خوشخبری دوں گا، نواز شریف نے بیرون ملک اپنے بیٹوں کے نام پر اربوں روپے اکٹھے ہیں، بدقسمتی سے دین کا ٹھیکیدار مولانا فضل الرحمن بنا دیا، وزیراعظم عمران خان

کابینہ سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ خطے میں امن کے لیے مذاکرات ہی واحد راستہ ہیں ، بھارت کو پلوامہ حملے میں تحقیقات اور دوطرفہ مسائل پر مذاکرات کی پیشکش کی، بھارت سے دہشت گردی سمیت تمام مسائل پر گفتگو کے لیے مذاکرات پر تیار ہیں ، ذرائع کے مطابق دورانِ اجلاس کابینہ نے اظہارِ خیال کیا کہ پوری قوم متحد ہے اور وطن کی حفاظت کے لیے تیار ہے

یہ بھی پڑھیں:   مسلم لیگ ن نے منی بجٹ مسترد کر دیا

وفاقی کابینہ نے بھارتی جارحیت کا فوری اورمؤثر جواب دینے پر مسلح افوج کو سراہا ، وفاقی کابینہ کے اعلامیے کے مطابق پاکستان نے بھارت کو پیغام دیا ہے کہ وہ صلاحیت رکھتا ہے لیکن پاکستان بے گناہ شہریوں اور بلاوجہ نقصان پہنچانے کا ارادہ نہیں رکھتا ، وفاقی کابینہ نے وزیراعظم کی بطور اسٹیٹ مین تقریر کو سراہا اور امید ظاہر کی کہ بھارتی حکومت اور قیادت ہوش کے ناخن لے گی اور علاقائی امن کوخطرے میں نہیں ڈالے گی۔

یہ بھی پڑھیں:   بھارتی پائلٹ کی وطن واپسی، پوری دنیا نے وزیراعظم عمران خان کے تعریفوں کے پل باندھ دئیے، ٹوئٹر پر ٹرینڈ بن گیا

کابینہ نے نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) فنڈ کے لیے بورڈ آف ڈائریکٹرز کی منظوری دی تاہم کابینہ اجلاس میں گلگت بلتستان کے اصلاحات پیکج پر غور نہ کیا جا سکا۔ کابینہ نے مختلف ملکوں کے ساتھ ایم او یوز اور ای سی سی کے فیصلوں کی توثیق کی۔