امید ہے عمران خان کی قیادت میں پاکستان ترقی کرے گا، سعودی ولی عہد

اسلام آباد(ویب ڈیسک)سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے کہا ہے کہ پاکستان کے ساتھ 20 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا پہلا مرحلہ مکمل ہوگیا پاکستان کے ساتھ مزید سرمایہ کاری کریں گے، امید ہے عمران خان کی قیادت میں پاکستان ترقی کرے گا۔پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان 20 ارب ڈالر مالیت کے مختلف منصوبوں پر معاہدے اور ایم او یوز پر دستخط کیے گئے۔

پاکستان کی جانب سے وزیر خزانہ اسد عمر اور سعودی وزیر خزانہ نے معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے، جس کے بعد وزیراعظم عمران خان نے معزز مہمان کے اعزاز میں عشائیہ دیا جس میں کابینہ کے اراکین اور آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ نے بھی شرکت کی۔

یہ بھی پڑھیں:   نواز شریف کو حالیہ دنوں میں دل کا دورہ نہیں پڑا،ہسپتال ذرائع

عشائیے سے خطاب کرتے ہوئے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے کہا کہ پاکستان آکر بے حد خوشی ہوئی، پاکستان ہمارا دوست اور بھائی ملک ہے، ولی عہد کی حیثیت سے مختلف ممالک کا دورہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور پاکستان پہلا ملک ہے۔

سعودی ولی عہد نے کہا ہے کہ پاکستان کے ساتھ 20 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا پہلا مرحلہ مکمل ہوگیا ہے سعودی عرب پاکستان کے ساتھ مزید سرمایہ کاری بھی کرے گا، امید ہے آٗئندہ 20 سال میں پاکستان میں سیاحت کا شعبہ فروغ پائے گا اور یقین ہے کہ وزیر اعظم عمران خان کی قیادت میں پاکستان ترقی کرے گا۔

یہ بھی پڑھیں:   وزیراعظم عمران خان نیا پاکستان ہاوسنگ منصوبے کے تحت 1لاکھ 10ہزار فلیٹ تعمیر کرنے کے منصوبے کا افتتاح کریں گے

اپنے خطاب میں وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ پاکستان کے لیے آج ایک عظیم دن ہے، سعودی عرب ہمیشہ سے پاکستان کا دوست رہا ہے اور سعودی قیادت پاکستانیوں کے دلوں میں بستی ہے۔ عمران خان نے کہا کہ پاکستان میں سیاحت کے بڑے مواقع ہیں اور ہمیں سیاحت کے میدان میں بہت کچھ کرنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سی پیک سے دنیا کی بڑی مارکیٹ سے رابطے بڑھے ہیں، سعودی عرب کی پاکستان میں سرمایہ کاری دونوں ممالک کے مفاد میں ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ سعودی عرب میں 25 لاکھ پاکستانی مقیم ہیں یہ مزدور طبقہ وہاں روزگار سے منسلک ہے

یہ بھی پڑھیں:   آرمی چیف اور چوہدری نثار کے درمیان ملاقات، انگریزی اخبار کی جانب سے معذرت کر لی

سعودی عرب ان کا خصوصی خیال رکھے کیوں کہ اوورسیز پاکستانی وہاں سے زرمبادلہ پاکستان بھیجتے ہیں پاکستان کے نزدیک ان افراد کی بڑی حیثیت ہے۔ جواب میں سعودی ولی عہد نے کہا کہ وہ پاکستان کی بات رد نہیں کرسکتے اس ضمن میں پاکستانی ملازمین کا خصوصی خیال رکھا جائے گا۔