پلوامہ حملہ،بھارت بوکھلاہٹ کا شکار،پاکستانی ہائی کمشنر کو طلب کرکے احتجاج، اپنا سفیر بھی واپس بلالیا

نئی دہلی(ویب ڈیسک)بھارت نے سفارتی آداب کی دھجیاں اڑاتے ہوئے بغیر کسی ثبوت کے پلوامہ حملے پر پاکستانی ہائی کمشنر کو طلب کر کے احتجاج کیا جب کہ پاکستان میں متعین اپنے ہائی کمشنر کو بھی واپس بلالیا ہے۔ بھارت ایک بار پھر سفارتی آداب بھول گیا۔

مودی حکومت نے اپنی سیکیورٹی ناکامی پر پردہ ڈالنے کے لیے کسی ثبوت کے بغیر مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج پر حملے کا الزام پاکستان پر زبردستی عائد کرنے کی مذموم کوششیں شروع کردیں۔

یہ بھی پڑھیں:   حکومت نے اب ایسے ہر گھر کو 25 ہزار روپے ماہانہ دینے کا شاندار اعلان کر دیا

بھارتی دفتر خارجہ نے نئی دہلی میں پاکستانی ہائی کمشنر سہیل محمود کو طلب کرکے پلوامہ حملے پر احتجاج کیا اور جیش محمد کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا،

تاہم حملے میں پاکستان کے ملوث ہونے کا کوئی ثبوت پیش نہیں کیا۔ دوسری جانب بھارت نے پاکستان میں متعین اپنے ہائی کمشنر اجے بساریہ کو بھی صورت حال پر مشاورت کے لیے فوری طور پر واپس بلا لیا ہے

یہ بھی پڑھیں:   اسد عمر کے خلاف سوشل میڈیا پر مہم، پی ٹی آئی کا دوٹوک اعلان

، بھارتی میڈیا کے مطابق پاکستان میں تعینات بھارتی ہائی کمشنر آج رات نئی دہلی روانہ ہوجائیں گے۔ پاکستان نے مقبوضہ کشمیر میں خود کش حملے کی مذمت کرتے ہوئے واقعے میں ملوث ہونے کا الزام مسترد کیا ہے

دفتر خارجہ نے مقبوضہ کشمیر میں خود کش حملے پرردعمل میں کہا کہ پلواما خود کش حملے پرگہری تشویش ہے، دنیا کے کسی بھی حصے میں پُرتشدد کارروائی کی ہمیشہ مذمت کی ہے جب کہ بغیرتحقیقات پاکستان سے تعلق جوڑنے کی بھارتی کوششوں کومسترد کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   سانحہ ساہیوال: سرکاری عہدے سے ہٹانے جانے والے سی ٹی ڈی سربراہ کو دوبارہ تعینات کر دیا گیا