طالبان مذاکراتی ٹیم میں بڑی تبدیلیاں،انس حقانی بھی شامل

دبئی(ویب ڈیسک)افغان طالبان نے امریکہ سے مذاکرات کیلئے اپنے قطر دفتر میں موجود مذاکراتی ٹیم کے ارکان کی تعداد 8 سے بڑھا کر 14 کردی ہے۔ تاہم ٹیم میں بڑی تبدیلیاں کی گئی ہیں

پچھلی ٹیم کے 5 ارکان نئی ٹیم میں شامل نہیں۔ اس طرح 11 ارکان نئے ہیں۔ان ارکان میں حقانی گروپ کے سربراہ سراج الدین حقانی کے بھائی انس حقانی بھی شامل ہیں۔

طالبان کی جانب سے نئی ٹیم کے اعلان سے تاثر ملا کہ انس حقانی کو بگرام میں امریکی جیل سے رہا کردیا گیا ہے۔ گذشتہ ماہ قطر مذاکرات کے دوران بتایا گیا تھا کہ انس حقانی اور ان کے ساتھی حافظ عبدالرشید سمیت کچھ طالبان رہنمائوں کو نہ صرف رہا کردیا گیا ہے

بلکہ انہیں فوری طور پر قطر پہنچا کر مذاکرات کا حصہ بنا دیا گیا ہے۔ تاہم طالبان نے مذاکراتی ٹیم کے اعلان کے بعد ایک علیحدہ وضاحت میں کہا کہ انس حقانی کو ٹیم میں ضرور شامل کیا گیا ہے لیکن وہ رہا نہیں ہوئے۔ طالبان نے اس بیان میں کہا کہ انس حقانی ایک طالبعلم ہیں کوئی فوجی کمانڈر نہیں

یہ بھی پڑھیں:   یکم اکتوبر سے پیٹرول کتنا سستا ہو گا؟ عوام کیلئے شاندار خبر آگئی

لہٰذا انہیں فوری رہا کیا جانا چاہیے تاکہ وہ مذاکرات کا حصہ بن سکیں۔دسمبر 2018 میں ابو ظہبی میں طالبان وفد شیرمحمد عباس ستنکزئی(درمیان) کی قیادت میں امریکہ کے ساتھ مذاکرات میں شریک ہے۔ دسمبر 2018 میں ابو ظہبی میں طالبان وفد شیرمحمد عباس ستنکزئی(درمیان) کی قیادت میں امریکہ کے ساتھ مذاکرات میں شریک ہے۔

قطر میں 21 سے 26 جنوری تک جاری رہنے والے مذاکرات کے آغاز میں وفد کی قیادت طالبان سیاسی رہنما عباس ستنکزئی کر رہے تھے۔

بعد میں ملا عبدالغنی برادر نے قیادت سنبھالی اور انہیں طالبان کے نائب امیر اور قطر دفتر کے سربراہ کے طور پر تعینات کرنے کا طالبان نے باضابطہ اعلان کیا۔ منگل کو جاری بیان میں مذاکراتی ٹیم کے وفد کے طور پر عباس ستنکزئی کا نام دیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   خاتون اول نے کتے کی آنکھوں میں آنسو دیکھے ، کیا ساہیوال میں مارے جانیوالوں کے یتیموں کے آنسو نظر نہیں آتے :پلوشہ خان کا سوال

طالبان کے اعلامیے کے مطابق ٹیم کا انتخاب ملا عبدالغنی برادر نے طالبان سربراہ ہیبت اللہ اخوند کی ہدایات کے مطابق کیا ہے۔ طالبان کی جانب سے 14 رکنی مذاکراتی ٹیم کی یہ تفصیل جاری کی گئی ہے۔
سربراہ
شیر محمد عباس ستنکزئی۔
رکن
مولوی ضیا الرحمان مدنی،
رکن
مولوی عبدالسلام حنفی،
رکن
شیخ شہاب الدین دلاور،
رکن
ملا عبدالطیف منصور،
رکن
ملا عبدالمنان عمری،
رکن
مولوی امیر خان متقی،
رکن
ملا محمد فاضل مظلوم،
رکن
ملا خیراللہ خیرخواہ،
رکن
مولوی مطیع الحق،
رکن
ملا محمد انس حقانی،
رکن
ملا نور اللہ نوری،
رکن
مولوی محمد نبی عمری،
رکن
ملا عبدالحق وثیق،
نئی مذاکراتی ٹیم کے 3ارکان عباس ستنکزئی، عبدالسلام حنفی اور شہاب الدین دلاور پچھلی مذاکراتی ٹیم میں بھی شامل تھے تاہم گذشتہ 8 رکنی ٹیم کے جن ارکان کو نئی ٹیم کا حصہ نہیں بنایا گیا ان میں سب سے اہم محمد سہیل شاہین ہیں جو طالبان کی نمائندگی کرتے ہوئے حالیہ دنوں کئی انٹرویوز دے چکے ہیں۔ اس کے علاوہ قاری دین محمد حنیف، محمد زاہد احمد زئی، ملا محمد فضل اخوند اور ملا خیراللہ کو نئی ٹیم میں شامل نہیں کیا گیا۔انس حقانی کے کے قریبی ساتھی حافظ عبدالرشید اس مذاتی ٹیم کے رکن مولوی محمد نبی عمری کے صاحبزادے ہیں۔ ان دونوں کو طویل عرصہ بگرام جیل میں رکھا گیا۔ انس حقانی کی رہائی طالبان اور حقانی گروپ کا دیرینہ مطالبہ تھا۔

یہ بھی پڑھیں:   حساس اداروں سے بات نہیں کی جاسکتی تو پھر عمران خان کوحکومت کرنے کا کوئی حق نہیں :ایاز امیر