حامد میر کے دبئی میں فلیٹس ہیں یا نہیں، اس کہانی کے پیچھے اصل حقیقت کیا ہے اور ایف بی آر نے نوٹس کسے بھیجا تھا ؟ سب پتا چل گیا

اسلام آباد (ویب ڈیسک )حامد میر کے دبئی میں فلیٹس ہیں یا نہیں ،اس کہانی کے پیچھے اصل حقیقت کیا ہے اور ایف بی آر نے نوٹس کسے بھیجا تھا ؟ سب پتا چل گیا۔سینئر صحافی و اینکرپرسن حامد میر نے سوشل میڈیا پر پیغام جاری کرتے ہوئے کہنا تھا کہ انہیں ایف بی آرکی جانب سے نوٹس ملا ہے جس میں دعویٰ کیا گیا کہ ان کی دبئی میں جائیدادیں ہیں

یہ بھی پڑھیں:   پی ٹی وی کرپشن کیس: ڈاکٹر شاہد مسعود پر فرد جرم عائد نہ ہوسکی

تاہم صحافی نے اس کی شکایت بھی وزیراعظم سے کر دی اور انہیں سوشل میڈیا پر جاری بھی کر دیا تاہم ایف بی آر کی جانب سے غلطی کو تسلیم کرتے ہوئے نوٹسز 24 گھنٹوں میں واپس کر لیے گئے اور اب اس کی اصل حقیقت بھی سامنے آ گئی ہے ۔

تفصیلات کے مطابق حامد میر نے ٹوئٹ کیا ہے کہ سیف الرحمان اور مشرف نے میرے اثاثے کھنگالے کچھ نہ نکلا، اب تحریک انصاف والے بھی کوشش کر لیں۔

یہ بھی پڑھیں:   افسوسناک سانحہ،چینی انجینئراور پاکستانی مزدور کو نکالنے کیلئے پاک فوج کا دستہ پہنچ گیا

نجی ویب سائٹ کے مطابق بہت کم لوگ جانتے ہوں گے کہ حامد میر نامی ایک بزنس مین اسلام آباد کے پوش سیکٹر ایف ایٹ میں دو کنال کی کوٹھی کے علاوہ ایک فارم ہاوس کے بھی مالک ہیں اور ان کا اینکر حامد میر سے کوئی تعلق نہیں۔دبئی پراپرٹی پر نوٹس ایف بی آر کی غلطی کی وجہ سے حامد میر بزنس مین کے بجائے صحافی حامد میر کے ایڈریس پر بھیج دیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں:   حج پالیسی 2019ء کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا

اس پراپرٹی کا کھوج ایف آئی اے نے لگایا تھا لیکن ایف بی آر نے جلدبازی میں مزید تحقیق نہ کی اور نوٹس بھیج دیا۔ایف بی آر حکام نے اپنی غلطی تسلیم کرتے ہوئے یہ نوٹس چوبیس گھنٹوں میں واپس لے لیا ہے لیکن سوشل میڈیا پر صارفین نے اس کو بڑی تعداد میں پھیلا کر صحافیوں پر تبصرے کئے ہیں۔