حامد میر کے دبئی میں فلیٹس ہیں یا نہیں، اس کہانی کے پیچھے اصل حقیقت کیا ہے اور ایف بی آر نے نوٹس کسے بھیجا تھا ؟ سب پتا چل گیا

اسلام آباد (ویب ڈیسک )حامد میر کے دبئی میں فلیٹس ہیں یا نہیں ،اس کہانی کے پیچھے اصل حقیقت کیا ہے اور ایف بی آر نے نوٹس کسے بھیجا تھا ؟ سب پتا چل گیا۔سینئر صحافی و اینکرپرسن حامد میر نے سوشل میڈیا پر پیغام جاری کرتے ہوئے کہنا تھا کہ انہیں ایف بی آرکی جانب سے نوٹس ملا ہے جس میں دعویٰ کیا گیا کہ ان کی دبئی میں جائیدادیں ہیں

یہ بھی پڑھیں:   وزیراعلیٰ پنجاب نے توہین آمیز بیان پر فیاض چوہان سے استعفیٰ طلب کرلیا، ان کی جگہ وزیر اطلاعات پنجاب کا عہدہ کون سنبھالیں گے؟نام سامنے آگیا

تاہم صحافی نے اس کی شکایت بھی وزیراعظم سے کر دی اور انہیں سوشل میڈیا پر جاری بھی کر دیا تاہم ایف بی آر کی جانب سے غلطی کو تسلیم کرتے ہوئے نوٹسز 24 گھنٹوں میں واپس کر لیے گئے اور اب اس کی اصل حقیقت بھی سامنے آ گئی ہے ۔

تفصیلات کے مطابق حامد میر نے ٹوئٹ کیا ہے کہ سیف الرحمان اور مشرف نے میرے اثاثے کھنگالے کچھ نہ نکلا، اب تحریک انصاف والے بھی کوشش کر لیں۔

یہ بھی پڑھیں:   فیاض الحسن چوہان کے مستعفی ہونے کے بعد تحریک انصاف کا ایک اور استعفیٰ سامنے آ گیا

نجی ویب سائٹ کے مطابق بہت کم لوگ جانتے ہوں گے کہ حامد میر نامی ایک بزنس مین اسلام آباد کے پوش سیکٹر ایف ایٹ میں دو کنال کی کوٹھی کے علاوہ ایک فارم ہاوس کے بھی مالک ہیں اور ان کا اینکر حامد میر سے کوئی تعلق نہیں۔دبئی پراپرٹی پر نوٹس ایف بی آر کی غلطی کی وجہ سے حامد میر بزنس مین کے بجائے صحافی حامد میر کے ایڈریس پر بھیج دیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں:   مختلف کالعدم تنظیموں کے 50 فراری ہتھیار ڈال کر قومی دھارے میں شامل

اس پراپرٹی کا کھوج ایف آئی اے نے لگایا تھا لیکن ایف بی آر نے جلدبازی میں مزید تحقیق نہ کی اور نوٹس بھیج دیا۔ایف بی آر حکام نے اپنی غلطی تسلیم کرتے ہوئے یہ نوٹس چوبیس گھنٹوں میں واپس لے لیا ہے لیکن سوشل میڈیا پر صارفین نے اس کو بڑی تعداد میں پھیلا کر صحافیوں پر تبصرے کئے ہیں۔