اقبالیات اور اسلامی تاریخ کو نصاب میں شامل کیا جائے،عمران خان

اسلام آباد(بیورورپورٹ)وزیرِ اعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ عوام الناس کی تاریخ اور حقائق سے نا آشنائی مفاد پرست عناصر کو موقع فراہم کرتی ہے کہ وہ تاریخ اور حقائق کو مسخ کرتے ہوئے اپنے مفادات کے لئے استعمال کریں جب کہ بعض سیاست دانوں نے اپنی دکان چمکانے کے لئے اسلام کا استعمال کیا۔

تفصیلات کے مطابق وزیرِ اعظم عمران خان کی زیر صدارت نئی نسل کو اسلامی تاریخ اور شاعرمشرق علامہ اقبال کے فلسفے اور سوچ سے روشناس کرانے کے اقدامات کے حوالے سے اجلاس ہوا، جس میں وزیرتعلیم شفقت محمود، وزیرِ اطلاعات فواد چوہدری ، ترجمان ندیم افضل چن، معاونین خصوصی افتخار درانی، یوسف بیگ مرزا، وزیر تعلیم پنجاب مراد راس خان، ماہر تعلیم و اقبالیات رضا ہمدانی اور ڈاکٹر رضا گردیزی نے شرکت کی۔

یہ بھی پڑھیں:   کرتارپور اجلاس؛ بھارت کا پاکستانی صحافیوں کو ویزا جاری کرنے سے انکار

اس موقع پر وزیراعظم کا کہنا تھا کہ معاشی و سماجی تنزلی سے پہلے اخلاقی تباہی واقع ہوتی ہے، اور کرپشن اخلاقی تباہی کا مظہر ہے،

عمران خان کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومتوں کی مشاورت سے اقبالیات اور اسلامی تاریخ کو نصاب میں شامل کیا جائے تاکہ نئی نسل کو اسلام کی تاریخ اور مسلمانوں کے سب سے بڑے مفکر علامہ اقبال کی سوچ سے روشناس کرایا جا سکے۔

یہ بھی پڑھیں:   امریکی نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد کل 4 اپریل کو پاکستان پہنچیں گے

وزیراعظم نے مزید کہا کہ علامہ اقبال کا فلسفہ انسان کی سوچ کو آزاد اور تخیل کو بلندی فراہم کرتا ہے، جب کہ اسلام اخلاقیات کا درس دیتا ہے، ریاست مدینہ کے اصول آج بھی اسی طرح مسلم ہیں جس طرح اسلام کے ابتدائی دور میں ان کی اہمیت تھی

یہ بھی پڑھیں:   480 سے زائد بدعنوان افسران نیب کی رضاکارانہ رقم واپسی کی اسکیم میں شامل

انہی پر عمل پیرا ہو کر مسلمانوں نے انتہائی قلیل عرصے میں دنیا کی امامت سنبھالی، آج بھی ہم ریاستِ مدینہ کے بنیادی اصولوں کی پیروی کرتے ہوئے اپنا مقام حاصل کرسکتے ہیں۔