جمال خاشقجی نے ملائیشین وزیراعظم کے انٹرویو کے عوض کتنی رقم لی تھی؟

دبئی(مانیٹرنگ ڈیسک)ملائیشیا میں کاروبار کی دنیا کی خبریں شائع کرنےوالے اخبار”The Edge” نے گذشتہ برس اکتوبر میں ترکی کے شہر استنبول میں سعودی قونصل خانے میں مارے جانےوالے صحافی جمال خاشقجی کی مبینہ مالی بدعنوانی کے ایک نئے اسکینڈل کا پردہ چاک کیا ہے، جس نے مقتول کے حوالے سے کئی نئے سوالات کو جنم دیا ہے۔

اخباری رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ صحافی جمال خاشقجی نے ملائیشیا کے سابق وزیراعظم نجیب عبدالرزاق کی ساکھ بہتر بنانے کے لیے ان کے انٹرویو کے بدلےمیں ایک لاکھ ڈالر کی رقم وصول کی تھی۔ نجیب رزاق سنہ 2009ء سے 2018ء تک ملائیشیا کے وزیراعظم رہے۔ اس وقت ان کے خلاف کرپشن کے 25 کیسز کے تحت مقدمات چل رہے ہیں۔ان پر رشوت وصول کرنے، مالی اور انتظامی بدعنوانی اور منی لانڈرنگ سمیت کئی دوسرے الزامات عاید ہیں۔

حافییر جوسٹو لیکس
العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق جمال خاشقجی کے ذریعے نجیب عبدالرزاق کا انٹرویو کرانے کا اہتمام ‘ سعودی پیٹرو’ کیمپنی کے ڈائریکٹر طارق عبید نے کیا تھا۔اس کا انکشاف کمپنی کے سابق سوئس نژاد ڈائریکٹر حافییر جوسٹو نے کیا۔ انہوں نے طارق عبید اور نجیب رزاق کے ساتھ ساتھ جمال خاشقجی کے درمیان ہونے والے ای میل رابطوں کو لیک کرکے کرپشن کی اس خفیہ داستان کا بھانڈا پھوڑ دیا۔

طارق عبید نے ای میل کے ذریعے نجیب رزاق کو صحافی جمال خاشقجی کا تعارف کرایا اور سابق وزیر اعظم کو جمال خاشقجی کی ‘ پروفائل’ کی تمام تفصیلات مہیا کی تھیں۔

اسی عرصے کے دوران طارق عبید کے ایک بھائی نواف عبید کو سعودی عرب میں سول سروسز میں ایک اہم عہدے پر تعینات کیا گیا مگر نواف عبید طارق عبید کے ساتھ کمپنی کو نمائشی حیثیت ایک فعال کمپنی بنانے میں بھی معاونت کی۔ انہوں‌ نے کمپنی کو مغربی میڈیا میں متعارف کرایا اور کاروباری حلقوں اور سیاسی رہ نمائوں کی حمایت کے حصول کی مہمات چلائیں۔

یہ بھی پڑھیں:   کلبھوشن کی بریت کیس ،عالمی عدالت انصاف نے بھارتی درخواست مسترد کردی

ملائیشیا کی ‘سرواک’ ویب سائیٹ کے مطابق نواف عبید نے عالمی صحافیوں اور انٹیلی جنس ماہرین کے ساتھ مضبوط تعلقات استوار کرنے اور ان کا ایک نیٹ ورک بنانے میں کامیابی حاصل کی۔ انہیں ‘سعودی پیٹرو’ کے توسط سے بھاری رقوم مہیا کی جاتیں اور 1MDB کمپنی کے ساتھ فرضی منصوبوں پرکام کیا۔ ملائیشیا کے سابق وزیراعظم نے اسی کمپنی کو اربوں ڈالر بیرون ملک اسمگل کرنے کے لیے استعمال کیا تھا۔

لیکس سے پتا چلتا ہے کہ نواف عبید جمال خاشقجی کو ای میلز میں “Uncle J” کے نام سے مخاطب کرتے۔ جمال خاشقجی عبید برادران کو اپنی خدمات مہیا کرتے رہے جبکہ ان دونوں نے نجیب عبدالرزاق کے ساتھ تعلقات کا فائدہ اٹھا کر انہیں اپنے مقاصد کے لیے استعمال کیا۔

1MDB کے 30 کروڑ ڈالر
نومبر 2009ء کو سعودی پیٹرو کمپنی قائم کی گئی۔ اس کےقیام کے ایک ماہ کے بعد اسے مشترکہ بنک کھاتے کے ذریعے 30 کروڑ ڈالر کی رقم منتقل کی گئی۔ نواف عبید نے جمال خاشقجی کو ایک ای میل ارسال کی جس میں ان سے کہا گیا کہ وہ جس اخبار کی ادارت کر رہے ہیں اس کے ساتھ معاہدے کی تفصیلات مہیاکریں۔ انہوں نے جوابی ای میل میں اپنے متعلق تمام ضروری کوائف فراہم کیے۔

دوسری جانب نجیب عبدالرزاق کی طرف سے ایک بیان جاری کرایا گیاجس میں انہوں نے سعودی عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔ یمن کے حوثی باغیوں کی مذمت کی اور سعودی عوام کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔

یہ بھی پڑھیں:   صدر ڈونلڈ ٹرمپ جلد ملک میں قومی ایمرجنسی نافذ کرنے والے ہیں، مِچ میک کونیل

نجیب رزاق کو خاشقجی کی کیسے اہمیت دلائی گئی؟
نواف عبید نے اپنے بھائی طارق عبید کو ایک ای میل میں جمال خاشقجی کی ذاتی نوعیت کی تفصیلات اور ان کی صحافتی خدمات کے بارے میں آگاہ کیا۔ انہوں نے یہ تمام تفصیلات ملائیشیا کےسابق وزیراعظم نجیب رزاق تک پہنچائیں اور انہیں یہ باور کرایا گیا کہ جمال خاشقجی سعودی عرب کے ایک اہم اخبار میں اہم عہدے پر فائز ہیں۔

اس وقت خاشقجی اخبار ‘الوطن’ کے چیف ایڈیٹر تھے اور یہ اخبار سعودی عرب میں شائع ہونے والا سب سے زیادہ پڑھا جانے والا اخبار سمجھا جاتا تھا۔ اسے سعودی عرب میں اصلاح پسند اور مغربی حلقوں کا ترجمان قراردیا جاتا۔ جمال خاشقجی سنہ 2005ء سے 2007ء تک برطانیہ میں قائم سعودی سفارت خانے میں میڈیا ایڈوائزر بھی رہ چکے تھے۔ انہوں نے امریکا کی انڈیانا یونیورسٹی سے ایم اے کی ڈگری حاصل کر رکھی تھی۔

نواف عبید نے طارق عبید کی نیابت کرتے ہوئے جمال خاشقجی کے ذریعے نجیب عبدالرزاق کا انٹرویو کرانے کا منصوبہ تیار کیا۔ انہوں‌نے اپنے بنک کوایک ای میل میں پانچ دن کے اندر اندر جمال خاشقجی کے اکائونٹ میں 1 لاکھ ڈالر منتقل کرنے کو کہا۔

نجیب رزاق کے پرنسپل سیکرٹری وان شہاب نے 2 دسمبر 2009ء کو ایک بیان میں بتایا کہ جمال خاشقجی 14 دسمبرکو وزیراعظم کا کولالمپور میں انٹرویو کریں گے۔

اسی روز طارق عبید نے سعودی۔ فرانسیسی بنک کے ڈائریکٹر کو ای میل میں لکھا کہ ہمیں جمال خاشقجی کےاکائونٹ میں ایک لاکھ ڈالر منتقل کرنے کی ضرورت ہے۔

کسی شخصیت کا انٹرویو کرنے اور ان کی ساکھ بہتر بنانے کے لیے جمال خاشقجی کا ایک لاکھ ڈالر وصول کرنا مالی کرپشن کے ساتھ ساتھ اخلاقی گراوٹ کا بھی ثبوت ہے اور یہ مروجہ صحافتی اصولوں سے کھلا انحراف ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   لیبیا میں‌لڑنے والی تنظیم کے ترکی اورایران سے مراسم :دستاویزات میں انکشاف

خفیہ پیغام
طارق عبید نے وزیراعظم نجیب عبدالرزاق کو جمال خاشقجی کی طرف سے وہ سوالات بھی فراہم کیے جو انٹرویو کے دوران ان سے پوچھے جانا تھے۔ اس کے علاوہ طارق نے ایک مفرور ملزم جولو اور جمال خاشقجی کو بھی ای میل کرکےان کے دورہ کولالمپورمیں تعاون پر ان کا شکریہ ادا کیا۔ طارق نے لکھا کہ نجیب رزاق آئندہ سال سعودی عرب کو دورہ کریں گے اور ان کے دورے سے قبل ان کا انٹریو شائع ہونے سے سعودی عرب میں ان کی اچھی شہرت میں اضافہ ہوگا۔

ملائیشیا کے مقامی اخبارات میں بھی اس انٹرویو کی بازگشت سنی گئی۔ مقامی سطح پریہ باور کرایا گیا کہ چونکہ چند ہفتوں کے بعد نجیب رزاق سعودی عرب کا دورہ کریں گے۔ اس لیے ایک تزویراتی حکمت عملی کے تحت ان کا انٹرویو کرایا گیا تا کہ ممکت کے حوالے سے ان کے خیالات سے آگاہی حاصل کی جاسکے۔

جمال خاشقجی کوتجویز دی گئی کہ وہ نجیب رزاق کا انٹرویو اخبار کے صفحہ اول پر شائع کریں۔ ایک مختصر انٹرویو ان کی اہلیہ اور خاتون اول کا بھی شائع کیاجائے۔ نیز دورے کی اہمیت بڑھانے کے لیے جمال خاشجی دو یا تین اداریے بھی تحریر کریں گے۔

طارق عبید نے اپنی ای میل کے اختتام میں جمال خاشقجی کو لکھا کہ سعودی عرب میں آپ کا نام اور آپ کی تحریروں کا چرچا ہے اور انہیں احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ آپ کے ذریعے نجیب رزاق کا انٹرویو ان کے دورے کو کامیاب بنانے کا ذریعہ ثابت ہوگا۔