ڈاکٹر طارق نیازی ہم شرمندہ ہیں

تحریر : شہزاد حسین بھٹی

اس ملک کی بدقسمتی یہ رہی ہے کہ جب بھی کوئی قانون کی عمل داری نافذ کرنے کی کوشش کرتا ہے یا کسی غلط کام کو درست کرنے یا ایمانداری دکھانے کی کوشش کرتا ہے تو اُسے نشانِ عبرت بنا دیا جاتا ہے اسکے لیے فوری یا بدیر اسے کسی اور ایسے الزام میں اندر کرکے اسے چھٹی کا دودھ یاد دلا دیا جاتا ہے۔ میں نے اپنی چوالیس سالہ زندگی میں ایسے اکثر واقعات دیکھے ہیں کہ محنت، ایمانداری اور فرض شناسی کی داستانیں رقم کرنے والے سرکاری افسران کو کھڈے لائن لگا دیا گیا یا پھر اس کا ریکارڈ خراب کرکے اسے مجبور کر دیا جاتا ہے کہ وہ سیاسی ناخداﺅں سے معافی مانگے بصورت دیگر ہٹ دھرمی برقرار رکھنے پر اسے جان سے بھی ہاتھ دھونے پڑے۔تاریخ ایسے بے شمار واقعات سے بھری پڑی ہے کہ سچ بولنے، سچ پر چلنے اور سچ لکھنے پر ایماندار لوگوں کو جیل کی چکی پیسنی پڑگئی۔ انگریز کے بنائے اس نظام کی جڑیں اتنی مضبوط ہو چکی ہیں کہ اسے ایک عام پاکستانی کبھی بھی توڑ نہیں سکتا بلکہ اسکا اپنا سر پھٹ سکتا ہے۔ انگریزوں کے اس نظام کی باقیا ت ہماری اشرافیہ اور سیاست دان ہیں جو عوام کو کیڑے مکوڑے سے تشبیع دیتے ہیں۔یہ طے ہوچکا ہے کہ سیاست دانوں کی اولادیں چاہیے یورپ سے پڑھ کر آجائیں تعلیم ان کے اندر کوئی تبدیلی نہیں لا سکتی بلکہ وہ پاکستان واپس لوٹ کر اُسی نظا م کا حصہ بن جاتے ہیں جس کو انہوں نے تبدیل کر نا تھا۔
ہمار ے سیاست دان اور اشرافیہ اس ملک کے بھولے عوام کو سہانے خواب تو بہت دیکھاتے ہیں لیکن حقیقت میں وہ اپنے عزائم کو حتمی شکل دینے کے درپے ہوتے ہیں۔عوام کی حالت زار اگلے دوسو سال بھی اسی نظام میں ایسے ہی رہے گی اور اس ملک کو عوام کے نام پر لوٹنے والے اسے لوٹ لوٹ کر اس ملک کی بنیادوں کو کھوکھلا کرتے رہیں گے اور بیرون ملک اپنے اثاثے بڑھاتے رہیں گے۔عمران خان نے نئے پاکستان اور تبدیلی کی بات کی تھی اور لوگوں نے تبدیلی کے لیے ووٹ بھی دیئے لیکن مجھے حکومت کے چھ ماہ بعد یہی لگتا ہے کہ عمران خان کی حکومت اور پچھلی حکومتوں میں کوئی فرق نہیں ہے۔ جو کام اُن کے دور میں ہوتے تھے وہی اس دور میں ہو رہے ہیں۔کرپشن اور لوٹ مار کا دور دورہ ہے۔ بھتہ خوری اور کمیشن مافیا اب بھی کام کر رہے ہیں۔ وزیر اعظم شکایا ت سیل (پی ایم سیٹیزن پورٹل) پر ناچیز نے نومبر سے ابتک سولہ شکایات کی ہیں جو کہ عمومی نوعیت کی ہیں لیکن ماسوائے تین شکایات کے کوئی بھی ابتک حل نہیں ہوئی۔ بیوروکریسی اُسی پرانی روش پر اوپر سے نیچے مارک کیے جا رہی ہے لیکن رزلٹ صفر ہے۔ یوں لگتا ہے جیسے بیوروکریسی کو کسی کا ڈر ہی نہیں ہے اور وہ کام کرنا ہی نہیں چاہتی صرف وقت گزار ہ جا رہا ہے۔
گذشتہ دن کی خبر ہے کہ سیکرٹری سپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر اینڈ میڈیکل ایجوکیشن پنجاب ثاقب ظفر نے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ بے نظیربھٹو ہسپتال راولپنڈی ڈاکٹر طارق مسعود خان نیازی کو فرائض میں غفلت ثابت ہونے پر معطل کر دیا ہے۔گریڈ20 کے ڈاکٹر طارق مسعود خان نیازی کے خلاف پیڈا ایکٹ2006ءکے تحت کارروائی کے بعد فوری ہیڈکوارٹر رپورٹ کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔یہ خبر کوئی اچنبے کی بات نہیں ہے ۔ ڈاکٹر طارق نیازی کے ساتھ یہ سلوک ہونا تھا کیونکہ اسے بھی سعادت حسن منٹو کے مشہور افسانے (نیاءقانون 1935) کے کوچوان منگو کی طرح شاید یہ گمان ہو گیا تھا کہ نیاءپاکستان بن گیا ہے اور اب انگریز کی باقیات ختم ہو چکی ہیں اور اب پاکستان آزاد ہو گیا ہے اور اب میرٹ ہی اس ملک کا قانون ہو گا کیونکہ عمران خان نے بھی عوام سے یہی وعدہ وعید کیا تھا ۔ ڈاکٹر طارق مسعود خان نیازی میں بحیثیت قلم کار آپ سے شرمندہ ہوں اور معافی کا خواستگار ہوں اور آپ سے وعدہ کرتا ہوں کہ میں اس ظلم و ناانصافی میں آپ کے شانے سے شانہ ملائے کھڑا ہوں۔
اس تمام کاروائی کا پس منظر کچھ یوں ہے کہ ڈاکڑ طارق مسعود خان نیازی ایک دیانت دار اور فرض شناس بیسویں گریڈ کے بے نظیر ہسپتال راولپنڈی کے ایم ایس تھے۔یہ خبر 17دسمبر 2018 کی ہے کہ وزیرقانون پنجاب راجہ بشارت کی جانب سے لیگی رہنما حنیف عباسی کی بیٹی کا تبادلہ کرانے کےلئے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ بینظیربھٹواسپتال کو کی جانے والی آڈیو کال منظرعام پر آگئی۔ کال لیک ہونے کے بعد ڈاکٹر اریبہ عباسی نے تحفطات کا اظہار کرتے ہوئے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔راجا بشارت اور ایم ایس ڈاکٹرطارق نیازی کے مابین آڈیوکال میں وزیر قانون پنجاب ڈاکٹراریبہ کے تبادلے کی سفارش کرتے ہوئے کہہ رہے ہیں کہ ہم نہیں چاہتے کہ ہم پرسیاسی انتقام کا نشانہ بنائے جانے کا الزام لگے۔ سیاسی اختلافات اپنی جگہ لیکن بچے سب کے سانجھے ہوتے ہیں۔ حنیف عباسی ہمارے بھائی ہیں۔ اریبہ میرے بچوں کی طرح ہے ، آپ اسے اسکن ڈیپارٹمنٹ میں بھجوا دیں۔جس پر ڈاکٹرطارق نیازی نے ڈاکٹراریبہ کا ڈیپارٹمنٹ تبدیل کرنے سے انکارکرتے ہوئے کہا میں ایسا نہیں کرسکتا۔وزیرقانون پنجاب نے جواب دیا کہ کیوں نہیں بھیج سکتے، اگر نہیں تو اپنے تبادلے کے لیے تیاررہیں، ڈاکٹر طارق نیازی بولے کہ کوئی مسئلہ ہی نہیں، موسٹ ویلکم۔
استعفیٰ میں ڈاکٹر اریبہ عباسی کی جانب سے لکھا گیا ہے کہ وہ 13 ستمبر2017 کو بینظیر بھٹو اسپتال میں بطور میڈیکل افسر تعینات ہوئیں، 2 ماہ ایمرجنسی میں کام کرنے کے بعد انہیں پیتھالوجی ڈیپارٹمنٹ میں بھیجا گیا جہاں سے 3 ماہ بعد ان کا تبادلہ اسکن ڈیپارٹمنٹ میں کردیا گیا۔ پوری دلجمعی سے کام کر رہی تھیں کہ 4 دسمبر کو ڈاکٹر طارق نیازی کی جانب سے صرف ان کے ٹرانسفرکا لیٹر ایشو کرتے ہوئے انہیں ایمرجنسی میں تعینات کردیا گیا۔ درخواست کرنے کے باوجود طارق نیازی نے انہیں اسکن ڈیپارٹمنٹ میں ہی رکھنے سے انکار کردیا کیونکہ اسکن ڈیپارٹمنٹ میں کام کم ہوتا ہے اور ایمر جنسی میں ہر وقت ڈاکڑ وں کی ضرورت ہوتی ہے۔
میڈیا میں ایشو اُٹھنے کے بعدحکومت حرکت میں آئی اور ڈاکڑ طارق نیازی کو یقین دہانی کروائی گئی کہ وہ کسی بھی دباﺅ کو خاطر میں لائے بغیر اپنا کام جاری رکھیں اور ساتھ ہی وزیر قانون کو مذید جگ ہنسائی سے بچنے کے لیے خامو ش کرواد یا گیا لیکن حکومتی وزراءنے اسے اپنی اناءکا مسئلہ بنالیا اور آخر کار ڈاکڑ طارق نیازی سے انتقام لینے کے لیے وجہ ثانی تلاش کرلی۔عمران خان صاحب! اقتدار پھولوں کی سیج نہیں ہوتی ۔ وہ دن نہیں رہے تو یہ بھی نہیں رہیں گے۔ کل آپ نے بھی وہیں کھڑے ہونا ہے جہاں آج دوسرے ہیں۔ میرٹ کا جنازہ تو نکل چکا اب کونسی بہار کا انتظار ہے۔ بیوروکریسی پر دباﺅ پیپلز پارٹی اور ن لیگ بھی رکھتی تھی اور اب آپ کی حکومت نے بھی انہیں فٹ بال بنا رکھا ہے جب چاہا اسٹوک داغ دیا۔

یہ بھی پڑھیں:   ”انصاف کا ڈرامہ ۔۔۔کمزور نشانہ “