قطر میں ورلڈ کپ: غیر ملکی ورکروں کے ساتھ بدسلوکی اور استحصال

Spread the love

دبئی (مانیٹرنگ ڈیسک)انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ’’ایمنسٹی‘‘ انٹرنیشنل نے ایک بار پھر خبردار کیا ہے کہ قطر اپنے اُن وعدوں کو پورا نہیں کر رہا ہے جو اُس نے 2022 کے فٹبال ورلڈ کپ کی تیاریوں کے سلسلے میں اپنی سرزمین پر کام کرنے والے ہزاروں غیر ملکی ورکروں کے وسیع پیمانے پر استحصال پر روک لگانے کے حوالے سے کیے تھے۔

یہ بھی پڑھیں:   محبوبہ مفتی کی بیٹی کو بھارتی جبر کے خلاف آواز اُٹھانے پر دھمکیاں

’’ایمنسٹی‘‘ نے منگل کے روز اپنی رپورٹ میں بتایا کہ “اصلاح کی نمایاں” کارروائی کے باوجود “متعدد ورکروں کو ابھی تک سخت حالات کا سامنا ہے”۔

اگرچہ ’’ایمنسٹی‘‘ کی رپورٹ صرف ورلڈکپ 2022 کے انفرا اسٹرکچر میں براہ راست کام کرنے والے 30 ہزار ورکروں سے نہیں بلکہ قطر میں کام کرنے والے دس لاکھ غیر ملکی ورکروں کے متعلق ہے ،، تاہم بین الاقوامی تنظیم کا کہنا ہے کہ فٹبال کے عالمی اتحاد (فيفا) پر اس خراب برتاؤ کی “ذمّے داری” عائد ہوتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   بھارت کی فوجی ناکامی کے بعد آبی دہشت گردی؛ 3 دریاؤں کا پانی روک لیا

’’ایمنسٹی‘‘ نے قطر سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ سماجی قوانین اور ان کے نفاذ کو مضبوط بنائے۔

Related