حوثی ملیشیا زخمی ساتھیوں کے جسمانی اعضاء نکال کر بیچنے لگے!

دبئی (العربیہ ڈاٹ نیٹ)یمن میں انسانی تجارت کے انسداد کے لیے سرگرم تنظیم نے انکشاف کیا ہے کہ حوثی ملیشیا کے زیر قبضہ یمنی دارالحکومت صنعاء میں باغی ملیشیا کی منظم ٹولیاں انسانی اعضاء اور خلیوں کی چوری کی کارروائیوں میں ملوث ہیں۔

تنظیم کے مطابق اسے موصول ہونے والی خطرناک اور حیران کن معلومات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ مذکورہ معاملہ “صنعاء کے ہسپتالوں میں منتقل کیے جانے والے حوثی ملیشیا کے زخمی ارکان کے ساتھ پیش آ رہا ہے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ یہ گھناؤنی کارستانیاں انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے”۔

یہ بھی پڑھیں:   اخوان المسلمون کو عالمی دہشت گرد تنظیم قرار دینے کا مطالبہ

تنظیم کا کہنا ہے کہ اس کے نمائندوں نے الحيمہ، بنی مطر، عمران، اِب، آنس اور حجہ میں اعضاء اور خلیوں کی چوری کا نشانہ بننے والے کئی افراد سے ملاقات بھی کی ہے۔ اس بات کی تصدیق کی جاتی ہے کہ صنعاء میں تین ایسے ہسپتال ہیں جہاں انسانی اعضاء کی چوری عمل میں آ رہی ہے۔ یہ کام یمنی اور غیر ملکی ڈاکٹروں کے زیر نگرانی حوثی ملیشیا کی سرکردہ قیادت کی مکمل سپورٹ کے سائے میں انجام دیا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   آسٹریلیا کے جنگلات میں آگ بے قابو، ایمرجنسی نافذ

یمنی تنظیم کے بیان کے مطابق حاصل شدہ ابتدائی معلومات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ اس گھناؤنی اور غیر انسانی کارروائی کے متاثرین کی تعداد سیکڑوں میں ہے۔ زیادہ تر زخمیوں کو ٹھکانے لگا دیا جاتا ہے تا کہ ان کے اعضاء حاصل کیے جا سکیں۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ انسانی تجارت کے انسداد کے لیے سرگرم یمنی تنظیم کے پاس متاثرین کے نام اور انسانی اعضاء اور تجارت میں ملوث نیٹ ورکس کے نام بھی موجود ہیں۔ اس کی بنیاد پر مذکورہ خوف ناک کارروائیوں کی پُرزور مذمت کی جاتی ہے اور ساتھ ہی مطالبہ کیا جاتا ہے کہ اس خطرناک معاملے کی غیر جانب دارانہ بین الاقوامی تحقیقات کرائی جائیں اور زخمیوں کے خلاف اس وحشیانہ جرم کے ارتکاب کا سلسلہ روکا جائے۔

یہ بھی پڑھیں:   امریکا کی یورپ کو ایرانی ایئرلائن پر پابندی عاید کرانے پرقائل کرنے کی کوشش

Related