صدام حسین کی قصیدہ گوئی جُرم نہیں: عراقی جوڈیشل کونسل

Spread the love

دبئی(العربیہ ڈاٹ نیٹ)عراق کی سپریم جوڈیشل کونسل نے سابق مصلوب صدر صدام حسین کی تعریف کرنے اور ان کے حق میں قصیدہ گوئی کو جرم قرار دینے سے متعلق خبروں کی سختی سے تردید کی ہے۔

عراقی جوڈیشل کونسل کی جانب سے ایک وضاحتی بیان سامنے آیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ کونسل نے مصلوب صدر صدام حسین کی تعریف کرنے پر کسی شخص کی گرفتاری کا حکم نہیں دیا اورنہ ایسی کوئی گرفتاری عمل میں لائی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   بھارتی ریاست اترپردیش میں مبینہ تجازوات کے خلاف کارروائی، 10 افراد زخمی، مسجد سمیت مسلمانوں کے کئی گھروں کو نذر آتش کردیا

خیال رہے کہ حال ہی میں عراق کے سوشل میڈیا پر ایک خبر وائرل ہوئی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ ذی قار گورنری کے سیکیورٹی حکام نے ایک عوامی شاعر صلاح الحرباوی کو حراست میں لیا ہے۔ ان پر اپنی شاعری میں صدام حسین کی تعریف کرنے اور ان کی قصیدہ گوئی کا الزام عاید کیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   مودی سرکار مسلمانوں کو بے دخل کرنے کے لیے ”اسرائیلی ماڈل“پر عمل پیرا

شہریوں‌ نے الحرباوی کی گرفتاری کی خبر پر سخت غم وغصے کا اظہار کیا ہے جس کے بعد سپریم جوڈیشل کونسل نے واضح‌ کیا ہے کہ صدام حسین کی تعریف کرنے کو جرم قرار دیا گیا اور نہ ہی ایسا کرنے پر کوئی سزا مقرر کیا ہے۔

جوڈیشل کونسل کا کہنا ہے کہ کونسل صدام حسین کی تعریف کوجرم قرار دینے کی مجاز نہیں تاہم یہ کام پارلیمنٹ کا ہے۔ اگر پارلیمنٹ اس حوالے سے کوئی قانون سازی کرتی ہے تو جوڈیشل کونسل اس پرعمل درآمد کی پابند ہو گی۔

یہ بھی پڑھیں:   کرائسٹ چرچ میں مساجد پر دہشتگرد حملوں میں 50 نمازیوں کی شہادت کے بعد بہترین حکومتی اقدامات سے دنیا بھر مقبول ہونے والی کیوی وزیراعظم کی دو منٹ کی ویڈیو دنیا بھر میں وائرل

عراقی شہریوں کا کہنا ہے کہ پارلیمنٹ نے صدام حسین کی ‘البعث’ پارٹی پر پابندی عاید کر رکھی ہے اور ان کی جماعت کی حمایت کرنے والوں کو گرفتار کرکے جیلوں میں ڈالا جا رہا ہے۔

Related