ساہیول واقعہ : سی ٹی ڈی نے 4 لوگوں پر فائرنگ کے الزامات کو مسترد کردیا

لاہور (زرائع) ساہیول قتل واقعے میں 7 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر زیر حراست محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) کے 6 اہلکاروں نے 19 جنوری کو قادر آباد کے قریب 4 لوگوں پر فائرنگ کے الزامات کو مسترد کردیا۔

ملزمان نے واقعے پر بنی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) کو بتایا ہے کہ محمد خلیل اور اس کے اہلخانہ اور اس کے دوست زیشان پر 2 موٹرسائیکل سوار جو ان کی گاڑی کے قریب موجود تھے، نے فائرنگ کی۔

یہ بھی پڑھیں:   ملک میں مہنگائی کا طوفان تھم نہ سکا

واضح رہے کہ یوسف والا پولیس نے 6 سی ٹی ڈی اہلکاروں کو گرفتار کرکے ان کے خلاف پاکستان پینل کوڈ کے دفعہ 302 اور انسداد دہشت گردی ایکٹ کے دفعہ 7 کے تحت مقدمہ درج کیا تھا۔

دوسری جانب مقتول خلیل کے بھائی جلیل شناخت کے لیے سینٹرل جیل نہیں پہنچے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پولیس نے شناخت کے مرحلے کے لیے جلیل کے طلبی کے سمن حاصل کیے تھے تاہم انہوں نے اسے وصول کرنے سے انکار کردیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   ای ووٹنگ اور بیرون ملک پاکستانیوں کو حق رائے دہی کا آرڈیننس چیلنج

جلیل نے ڈان کو بتایا کہ انہیں سی ٹی ڈی کی تحقیقات پر اعتبار نہیں اور جوڈیشل کمیشن کو اس معاملے پر تحقیقات کرنی چاہیے۔ سی ٹی ڈی کے سب انسپیکٹر صفدر حسین، ناصر نواز، احسن خان، محمد رضوان، سیف اللہ عابد اور حسنین اکبر کو انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیش کیا گیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ سی ٹی ڈی اہلکاروں نے معاملے کو پیچیدہ بنانے کے لیے الزامات کو مسترد کیا ہے۔