رشتے خون کے یا احساس کے

تحریر: محمد شاہد اقبال شجاع آباد

لفظ ”رشتہ” کہ جسکے ذہن میں آتے ہی ایک ایسے تعلق کی تصویر دل و دماغ کے نہاں خانوں میں واضح ہوجاتی ہے جس کی قربت سے بندے کی روح تک سرشار ہوجائے۔ایک احساسِ اپنائیت وطمانیت، دل مضطر میں جاگزیں ہو اور شعور کے پردے پر ایک مہربان اور طمع و حرص سے بے نیاز ہستی کی شبیہ متمکن ہوجائے۔ یہ ایک ایسا ناطہ ہوتا ہے کہ جس کے بنتے ہی زندگی خود بخود زندگی جینے لگے۔راقم الحروف کی اس خام تعریف کے بعد ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ کیا رشتے صرف خون کے ہوتے ہیں؟ تو اس بات کو اگر ہم فی زمانہ رشتوں کی مروجہ تعریف کے ترازو میں تولیں تو پھر ہم بآسانی کہہ سکتے ہیں کہ جی ہاں! رشتے تو صرف خون کے ہی ہوتے ہیں۔ جیسے ماں باپ، بہن بھائی، پھوپھی، خالہ، چچا،تایا ماموں اور پھرانکی اگلی نسلیں جو سب ایک لڑی میں پروئی جاتی ہیں اور اس لڑی کو ‘رشتہ داری’ یا ‘قرابت داری’ کا نام دیا جاتا ہے۔ اب ایسا کیوں ہوتا ہے کہ یہ رشتے پس منظر میں اور وقتی تعلقات بلندیوں پہ پہنچ رہے ہیں؟ تو بس اتنا کہوں گا تالی دونوں ہاتھوں سے بجتی ہے اور اگر بدقسمتی سے دوسرا ہاتھ میسر نہ ہو رہا ہو تو ہم اسکی کوشش چھوڑ کر ایک نئے ہاتھ کی تلاش میں نکل کھڑے ہوتے ہیں۔
لیکن یہ تعلق، یہ ناطہ، یہ رسی جسے ہم سب رشتے کا نام دیتے ہیں، اتنی محدود نہیں ہوتی کہ ہم آسانی سے جان چھڑا لیں۔ ارے نہیں صاحب! رشتے تو بس خون کے ہی ہوتے ہیں اور کیا بتائیں آجکل تو خون ہی سفید ہوگئے ہیں وغیرہ وغیرہ۔ یہ نسل انسانی کہ جسکی ابتدا رشتے ہی کی بنیاد پر ہوئی، یہ نسل انسانی کہ جسکا ایک ایک فرد معاشرتی حیوان ہے اور مل جل کر رہنے کو پسند کرتا ہے اگر کسی وجہ سے اسے ایک الگ تھلگ اور ویران جگہ پہ بے شک آزاد ہی کیوں نہ چھوڑ دیا جائے اور دنیا جہان کی ایک ایک آسائش بھی مہیا کی گئی ہو پھر بھی وہ چند ہی دنوں میں اس پودے کی مانند کملا جائے گا جسے پانی نہ دیا گیا ہو۔ جی ہاں رشتے کا مقام انسانی کے لیے ‘پانی’ کے مترادف ہے۔ بے شک قرابت داری کی لڑی میں جڑا ایک ایک فرد اس نگینے کی طرح ہوتا ہے جس کا کام ہر طرح کے حالات میں بس چمکتے رہنا ہوتا ہے اور اگر کسی بھی وجہ سے اسکی ضیاء میں کوئی معمولی سی بھی کمی دیکھنے کو ملے تو ہم فوراً ہی اسے اس لسٹ سے نکال باہر کرتے ہیں اور خود کو محدود کرتے چلے جاتے ہیں یہاں تک کہ اپنا آپ خاک ہوجاتا ہے۔ دین اسلام نے بہرصورت رشتہ داروں سے صلہ رحمی پر زور دیا ہے کیونکہ یہ سب ہماری اپنی بقا اور نمو کے لیے ضروری ہے۔ہردور میں بچے یا بچی کی شادی کے لیے اپنے ہی خاندان کو ترجیحی درجہ حاصل رہا ہے لیکن خاندان سے باہر شادیاں کرنے کا رحجان بھی ساتھ ساتھ موجود تھا جبکہ فی زمانہ یہ پہلو کچھ زیادہ اہمیت اختیار کر گیا ہے جسکی بنیاد پہ اکثر لوگ یہ کہتے پائے جاتے ہیں کہ میاں بیوی کا رشتہ خون کا نہیں ہوتا لیکن اس جیسا رشتہ کہیں سے لا کر تو دکھلاؤ، بے شک ماں باپ کے بعد میاں بیوی کا تعلق ایسا ہی ناطہ ہوتا ہے کہ جسکی بنیاد پہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ ہم زندگی گزار رہے ہیں یا جی رہے ہیں۔دوستی کا رشتہ ہو یا رشتہ محبت ہو، کاروباری تعلق ہو یا رشتہ انسانی ہو، ہمسائیگی کے حقوق پورے کیے جارہے ہوں یا دنیا کے کسی بھی خطے کے انسانوں کو فائدہ پہنچانے کی کوئی کوشش، رشتہ حیات کی اہمیت و ضرورت کی باتیں ہوں یا موت کے بعد جنت اور اسکی نعمتوں کے تصورات یہ سب ایسے رشتے ہیں، ایسے تعلق ہیں جنکی بنیاد پہ یا جنکے باعث روح کی سرشاری، دلی سکون اور زندگی جینے کے بہانے میسر ہوتے ہیں اوپر کی گئی گفتگو کی بنیاد پہ ہم باآسانی اس نتیجے پہ پہنچ سکتے ہیں کہ نہیں صاحب رشتے صرف خون کے نہیں ہوتے بلکہ رشتے صرف اور صرف احساس کے ہوتے ہیں اور یہ ہم پہ منحصر ہے کہ ہم احساس کن کن کا اور کتنا کرتے ہیں۔عبداللہ جاوید کے اس شعر کے ساتھ اجازت چاہوں گا

یہ بھی پڑھیں:   دھندوخراب موسم میں احتیاطی تدابیرپرعمل،سفروجان محفوظ

Related

اپنا تبصرہ بھیجیں