شہباز شریف واٹس ایپ کے ذریعے کیا کروارہے ہیں؟ سینئر صحافی کا دعویٰ

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک) سینئر صحافی اسد کھرل کا کہنا ہے کہ شہباز شریف کو حراست میں ہونا چاہیے تھا لیکن وہ باہر بیٹھ کر واٹس ایپ کے ذریعے اپنے خلاف شواہد ضائع کروارہے ہیں۔ عمران خان کی موجودگی میں کوئی مائی کا لعل این آر او نہیں دے سکتا، عمران خان کو وہ لوگ ڈرا رہے ہیں جنہیں یہ خطرہ ہے کہ وہ نیب یا اینٹی کرپشن کے ہتھے چڑھ جائیں گے۔
نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی اسد کھرل نے کہا کہ اپوزیشن کا کرپشن بچاﺅ اتحاد ہورہا ہے ، میثاق جمہوریت دراصل چارٹر آف ڈاکو کریسی ہے۔یہ ایک دوسرے پر اعتماد نہیں کررہے بلکہ ایک دوسرے کو ماموں بنا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شہباز شریف رام ہوچکے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ فوجی عدالتوں کی وجہ سے دہشتگردی میں کمی آئی ہے ، وہ آرمی اور سلامتی کے اداروں کی بات کررہے ہیں جبکہ آصف زرداری چیف جسٹس کے گن گارہے ہیں۔ ن لیگ کا وہ بیانیہ جو اداروں کے خلاف تھا وہ تبدیل ہوگیا ہے۔ جب زرداری سے سوال پوچھا گیا کہ آپ این آر او کر رہے ہیں تو انہوں نے کہا کہ عمران خان کی کیا اوقات ہے کہ این آر او دیں۔ زرداری نے جس ہتک آمیز طریقے سے حکومت کا نام لیا ہے اب عمران خان کو اپنا آپ دکھانا ہوگا۔ اسد کھرل نے کہا کہ شہباز شریف کو حراست میں ہونا چاہیے تھا وہ باہر بیٹھے ہوئے ہیں اور واٹس ایپ پر شواہد ضائع کروارہے ہیں ، گواہوں کو دھمکا رہے ہیں اور کیس کی تفتیش پر اثر انداز ہورہے ہیں۔ اس صورت میں آپ یہ کہیں کہ لوٹی ہوئی رقم واپس آجائے گی ، تو یہ ایک دیوانے کا خواب ہوسکتا ہے۔اگر یہ بے لاگ احتساب ہے تو پھر اس سے زیادہ وی آئی پی احتساب نہیں ہوسکتا۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کی موجودگی میں کوئی مائی کا لعل این آر او نہیں دے سکتا، جس عمران خان کو میں جانتا ہوں وہ کسی این آر کا حصہ نہیں بنیں گے، اگر این آر او ہوا تو یہ نیشنل رابری آرڈیننس ہوگا۔ عمران خان کو وہ لوگ ڈرا رہے ہیں جنہیں یہ خطرہ ہے کہ وہ نیب یا اینٹی کرپشن کے ہتھے چڑھ جائیں گے۔ وہ مشیر عمران خان کو مشورہ دے رہے ہیں کہ خان صاحب اپوزیشن کو ساتھ لے کر چلیں نہیں تو یہ واک آﺅٹ کرجائیں گے۔

یہ بھی پڑھیں:   ریکوڈک کیس، پاکستان پر 5 ارب 97 کروڑ ڈالر جرمانہ عائد

Related

اپنا تبصرہ بھیجیں