حکومت نے مولانا فضل الرحمان کی کوششوں کوکامیاب کردیا :حامد میر

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) تجزیہ کار حامد نے کہاہے کہ عمران خان کی حکومت نے مولانا فضل الرحمان کی کوششوں کوکامیاب کردیاہے، اس وقت پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن میں بھروسے کی کمی ہے جس کودور کرنے کیلئے دونوں پارٹیوں کے سینئر رہنما مل رہے ہیں۔ جیونیوز کے پروگرام ”آج شاہ زیب خانزادہ کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے حامدمیر نے کہا کہ عمران خان کی حکومت نے مولانا فضل الرحمان کی کوششوں کوکامیاب کردیاہے ، اپوزیشن ایک دوسرے کے ساتھ چلنے کوتیار ہے لیکن کچھ معاملات ایسے ہیں جن میں ابھی مسئلہ ہے جن میں ایک مسئلہ ابھی فوجی عدالتوں کاہے ۔ اپوزیشن کے اجلاس میں پشتو ن موومنٹ کے دو ایم این ایز کو نہیں بلایا گیا جس پر محسن داوڑ نے اعتراض کیاہے ۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کے اجلاس میں بی این پی نے بھی شرکت کی ہے حالانکہ بی این پی نے عمران خان کو ووٹ دیا تھا ، بی این پی کا کہناہے کہ ہم ایشو ٹو ایشو چلیں گے ، وہ حکومت کے ساتھ بھی ہیں اور اپوزیشن کے ساتھ بھی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فوجی عدالتوں کے سوا تمام ایشوز پر اپوزیشن اپوزیشن پارٹیاں متحد نظر آتی ہیں،فوجی عدالتیں جب قائم ہوئی تھیں تواس وقت مسلم لیگ ن کی حکومت تھی اور مسلم لیگ ن کی حکومت نے ہی بار بار ان عدالتوں کوتوسیع دی ، اب مسلم لیگ ن کے کچھ سینئر رہنماﺅں کا کہناہے کہ باربار فوجی عدالتوں کو توسیع دینے کا مطلب اپنے عدالتی نظام پر عدم اعتماد کااظہار ہوگا ، ان لوگوں کا خیال ہے کہ فوجی عدالتوں کو توسیع نہیں دینی چاہئے بلکہ ہماری عدلیہ کو اس معاملے میں آگے آنا چاہئے ، پیپلز پارٹی نے بہت واضح طور پر ن لیگ کو کہہ دیاہے کہ پیپلز پارٹی فوجی عدالتوں میں توسیع کیلئے تیار نہیں ہے ، اگر پیپلز پارٹی اپنے موقف پر قائم رہتی ہے تو پھر شہباز شریف کیلئے بھی کسی لچک کامظاہرہ کرنا مشکل ہوگا ۔ان کا کہنا تھا کہ ن لیگ کا کہناہے کہ اب ہم نے پرانی غلطیوں سے سبق سیکھاہے اور اب جدھر اپوزیشن پارٹیاں جائیں گی ہم بھی ادھر جائیں گے لیکن اس وقت پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن میں بھروسے کی کمی ہے جس کودور کرنے کیلئے دونوں پارٹیوں کے سینئر رہنما مل رہے ہیں اور وہ کوٹ لکھپت جیل میں جاکر نواز شریف سے بھی ملاقات کریں گے اور ان کے اور آصف زرداری کے درمیان عدم اعتماد ختم کرانے کی کوشش کریں گے

یہ بھی پڑھیں:   پاکستان کا عالمی عدالت انصاف میں کلبھوشن کیس پیش کرنے کا اعلان

Related

اپنا تبصرہ بھیجیں