حکومت کا اتحادی جماعتوں کی بلیک میلنگ سے بچنے کیلئے مختلف پلانوں پر غور

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے عددی برتری حاصل کرنے کیلئے اپوزیشن جماعتوں کے اراکین توڑنے کا منصوبہ بنا لیا جبکہ پلان اے کی ناکامی کے بعد پلان بی بھی عملدرآمد کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا ہے اور اس حوالے سے وزیراعظم عمران خان نے اہم رہنماﺅں کو ٹاسک سونپ دیا ہے۔نجی ٹی وی دنیا نیوز کے صحافی اخلاق باجوہ کے مطابق باوثوق ذرائع کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف نے عام انتخابات میں واضح کامیابی نہ ملنے پر میڈ ٹرم الیکشن کرانے کا پلان بنایا تھا جو اس کی کارکردگی نے ناکام بنا دیا ہے اس کو مدنظر رکھتے ہوئے اب پلان بی پر عملدرآمد کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس حوالے سے ذرائع نے بتایا کہ پی ٹی آئی کی رہنما جہانگیر ترین کو زمہ داری سونپی گئی ہے کہ وہ پنجاب سے تعلق رکھنے والے ن لیگ کے ارکان اسمبلی کو توڑیں اور ان کو بتدریج اسمبلیوں سے استعفے دلواکر تحریک انصاف کی ٹکٹ پر الیکشن لڑوایا جائے۔
ابتدائی معلومات کے مطابق چند ارکان اسمبلی کو تحریک انصاف میں شمولیت پر ہر صورت میں دوبارہ منتخب کرانے کی یقین دہانی کرائی گئی ہے جبکہ وسطی اور شمالی پنجاب کے حوالے سے یہ ذمہ داری فواد چوہدری اور راولپنڈی سے تعلق رکھنے والے ایک ایم این اے کو بھی اس پلان پر عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔ اب تک 5 ارکان اسمبلی نے تحریک انصاف کے قائدین کو حامی بھر لی ہے ان میں پنجاب سے تعلق رکھنے والے ن لیگ کی 3 پاکستان پیپلز پارٹی سندھ کا ایک اور ایم کیو ایم کا ایک رکن شامل ہیں۔
دوسری جانب ق لیگ کے دو اہم رہنماؤں کو جو کہ اہم عہدوں پر فائز ہیں کو بھی بندے توڑو پلان کا حصہ بنایا گیا ہے۔ جو پیپلزپارٹی اور ایم کیو ایم سمیت دیگر سیاسی جماعتوں کے ارکان کو اپنی اپنی جماعتوں سے استعفے دلواکر دوبارہ حکومتی پارٹی سے اسمبلیوں میں پہنچائیں گے۔ ذارئع کے مطابق وزیراعظم عمران خاں اپنی اتحادی جماعتوں کی بلیک میلنگ سے بھی تنگ ہیں جس سے بچنے کیلئے پلان بی کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔
چند روز قبل بنی گالا میں ہونے والی تحریک انصاف اور اتحادی جماعت کے اہم رہنماؤں کی ملاقات میں وزیر اعظم کو بتایا گیا تھا کہ اپوزیشن کے چند ارکان اپنی وفاداریاں تبدیل کرکے حکومت کی حمایت کرنے پر تیار ہیں جس پر وزیراعظم نے انکار کردیا اس موقعہ پر پنجاب کی اہم اتحادی جماعت نے وزیراعظم کو تجویز پیش کی کہ ان کو استعفے دلواکر ضمنی انتخاب میں تحریک انصاف کی ٹکٹ پر منتخب کروایا جائے۔ ان کی اس تجویز پر وزیراعظم نے گرین سگنل دیتے ہوئے اس منصوبے پر عملدرآمد کیلئے اہم رہنماوں کو ٹاسک سونپ دیا۔

یہ بھی پڑھیں:   ’’باؤجی میں تینوں نال لئے کے جانااے‘‘ والدہ کی نواز شریف سے گفتگو،میں ہروقت آپ کے ساتھ ہوں: سابق وزیراعظم

Related

اپنا تبصرہ بھیجیں