اپوزیشن لیڈر نے مہمند ڈیم کے ٹھیکے کو غیر شفاف قرار دیدیا

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے کہاہے کہ عوام پر مہنگائی کے پہاڑ توڑے جارہے ہیں ، ایسی کیا قیامت آگئی تھی کہ سنگل بڈ پر مہمند ڈیم کا ٹھیکہ دیدیا گیا ، مہمند ڈیم کا ٹھیکہ سوالیہ نشان ہے ؟ اس طرح ٹھیکہ دیں گے تو اعتراض ہوگا ،مہمند ڈیم کا ٹھیکہ شفافیت کیخلاف اور قوانین کی خلاف ورزی ہے ، دوست ممالک سے امداد پاک فوج کے سربرا کومل رہی ہے ، اس میں حکومت کا کوئی کردار نہیں۔تفصیلات کے مطابق قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے شہبازشریف نے کہاکہ مہمند ڈیم بڑی اہمیت کاحامل ہے ، یہ 800میگا واٹ کا ڈیم دریائے سوات پر بنایا جائے گا،اس ڈیم کی تعمیر کاکنٹریکٹ ایوارڈ کیا جانا بہت بڑا سوال بن گیاہے ، اس کیلئے نواز شریف نے دو ارب روپے جاری کئے تھے ، دیا میر بھاشا ڈیم کی زمین ہمارے دورحکومت میں خریدی گئی ، اس وقت ملک میں مہنگائی کی شدید لہر ہے اور بجلی کا بحران دوبارہ سر اٹھا رہاہے ، غریب آدمی کی حالت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے ، عوام پر مہنگائی کے پہاڑ توڑے جارہے ہیں،اد ویات کی قیمتوں میں نو سے 15فیصد تک اضافے ہوگیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ ن نے توانائی کے بحران پر قابو پایا جس کی وجہ سے ملکی معیشت کابرا حال تھا ، ہم نے تین پاور پلانٹس فوری طور پر لگا کر نیشنل گرڈ میں 36سو میگا واٹ بجلی فوری شامل کی تھی ، ہماری حکومت نے جنگی بنیادوں پرلوڈ شیڈنگ کا مسئلہ حل کیا ۔ انہوں نے کہا کہ مہمند ڈیم جو اس وقت بننے جارہاہے ، یہ ملک کیلئے بڑی خوش آئند بات ہے ، اس کاپراسسز پچھلے کئی سالوں سے شروع ہے ، اس ڈیم کا کنٹریکٹ تحریک انصاف کی حکومت میں ایوارڈ کیا گیا اور اس کی ذمہ داری تحریک انصاف کی حکومت کی ہے ،مسلم لیگ ن کی نہیں ہے ، مسلم لیگ ن کی حکومت میں اس ڈیم پر پراسز کا آغاز کیاگیا ۔ انہوں نے کہا کہ پیپرا قوانین سنگل بڈ کی اجازت دیتے ہیں لیکن اس کے لوازمات ہیں۔انہوں نے کہا کہ میں الزام تراشی نہیں کرنا چاہتا لیکن ایسی کیا قیامت آگئی تھی کہ دوسر ی بولی کومسترد کردیا گیا ، دوسری کمپنی کو ٹیکنیکل بنیاد پر ٹھیکہ نہیں دیا گیا، اگر کوئی الزام تراشی کرے گا تو پھر وہ بھرے گا ، اس طرح ٹھیکہ دیں گے تو اعتراض ہوگا ۔انہوں نے کہا کہ مہمند ڈیم کی تکمیل کیلئے پانچ چھ سال لگیں گے ، ایسی کیا جلدی تھی کہ یہ ٹھیکہ سنگل بڈ پر دیا گیاہے ، اس وقت بجلی کی لوڈ شیڈنگ دم توڑ چکی ہے جو لوڈشیڈنگ ہے ، وہ حکومت کی بد انتظامی، نا تجربہ کاری اوردیگر عوامل کی وجہ سے ہے ، اس لئے مہمند ڈیم پر ایسی کونسی قیامت آگئی تھی کہ حکومت ری بڈ نہیں کرسکتی تھی اور یہ کونسی سے وجہ تھی کہ اس سنگل بڈ کو ہی سینے سے لگانا تھا اور اربوں کا یہ ٹھیکہ دیدیا گیا ۔

یہ بھی پڑھیں:   سانحہ کرائسٹ چرچ،مزید 3پاکستانی شہداء کی تصدیق ،تعداد 9 ہوگئی

Related

اپنا تبصرہ بھیجیں