لیبیا میں انتخابات سے متعلق اقوام متحدہ کے زیر اہتمام مجوزہ کانفرنس تاخیر کا شکار

طرابلس(ایجنسیاں)اقوام متحدہ لیبیا میں انتخابات کے انعقاد کی تیاریوں کے سلسلے میں اس سال ہونے والی کانفرنس کو مؤخر کرنے پر غور کررہی ہے اور وہ اس کانفرنس سے قبل لیبیا کے متحارب سیاسی دھڑوں اور گروہوں کی زیادہ سے زیادہ حمایت حاصل کرنا چاہتی ہے۔ ذرائع کے مطابق لیبیا کی متحارب حکومتوں اور مسلح گروپوں کے درمیان عدم اعتماد کی فضا پائی جاتی ہے ۔ لیبیا میں معاہدۂ شمالی اوقیانوس کی تنظیم ( نیٹو) کی حمایت سے سابق مطلق العنان لیڈر معمر قذافی کے خلاف مسلح بغاوت برپا ہونے اور ان کی حکومت کے خاتمے کے بعد سے طوائف الملوکی کا دورہ ہے اور 2014ء میں ملک عملاً دو حصوں میں منقسم ہوگیا تھا ۔ ملک کے مشرقی حصے میں ایک حکومت قائم ہے۔اس کو جنرل خلیفہ حفتر کے زیر قیادت قومی فوج کی حمایت حاصل ہے جبکہ دارالحکومت طرابلس میں دوسری حکومت قائم ہے۔ طرابلس میں قومی اتحاد کی حکومت کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا جاتا ہے مگر مشرقی شہر بنغازی اور دوسرے شہروں میں قائم حکومت نے اس کی عمل داری کو تسلیم نہیں کیا ہے۔
اقوام متحدہ کے زیر اہتمام مجوزہ کانفرنس میں لیبیا کے تمام طبقات کی شرکت متوقع ہے اور وہ ملک میں صدارتی یا پارلیمانی نظام کے بارے میں فیصلہ کریں گے لیکن اگر کانفرنس ہی کے انعقاد میں تاخیر ہوتی ہے تو پھر انتخابات بھی مزید تاخیر کا شکار ہوجائیں گے۔ فرانسیسی منصوبے کے تحت لیبیا میں گذشتہ سال 10 دسمبر کو انتخابات منعقد ہونا تھے لیکن متحارب سیاسی لیڈروں کے درمیان اختلافات اور دارالحکومت طرابلس میں تشدد کے واقعات کے بعد یہ انتخابات ملتوی کردیے گئے تھے۔ اقوام متحدہ کے لیبیا کے لیے خصوصی ایلچی غسان سالم 2019ء کے ابتدائی ہفتوں میں کانفرنس کا انعقاد چاہتے تھے اور انھوں نے جون میں انتخابات کرانے کی تجویز پیش کی تھی لیکن طرابلس اور مشرقی لیبیا میں قائم متوازی حکومتوں نے اس کی حمایت نہیں کی تھی اور ان کی مزاحمت کے پیش نظر اس تجویز کو عملی جامہ نہیں پہنایا جاسکا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   الیکشن تک بھارتی مساجد کو نگرانی میں رکھنے کا منصوبہ

Related

اپنا تبصرہ بھیجیں