اردن میں سعودی عرب کے اتحادیوں کا اجلاس ،علاقائی امور کے بارے میں پالیسیوں پر غور

دبئی(العربیہ ڈاٹ نیٹ ، ایجنسیاں)سعودی عرب اور ا س کے اتحادی ممالک کے اعلیٰ سفارت کاروں کا دوروزہ اجلاس اردن میں ختم ہوگیا ہے۔اجلاس میں خطے میں جاری مختلف تنازعات پر رابطہ پالیسی کے بارے میں غور کیا گیا ہے۔اردن کے وزیر خارجہ ایمن صفادی نے کانفرنس کے اختتام پر ایک بیان میں کہا ہے کہ ’’ یہ بھائیوں اور دوستوں کے درمیان بند کمرے کا ایک مشاورتی اجلاس تھا۔اس میں علاقائی امور کے علاوہ علاقائی بحرانوں پر قابو پانے کے لیے تعاون کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا گیا ہے‘‘۔ بدھ کو چھے وزرائے خارجہ کا کوئی چھے گھنٹے تک اجلاس ہوا تھا اور اس میں اردن کے شاہ عبداللہ دوم نے خطے کو درپیش بحرانوں اور مختلف امور پر باہمی تعاون اور رابطے بڑھانے کی اہمیت پر زور دیا تھا۔
بحیرہ مردار کے کنارے واقع ساحلی سیاحتی مقام میں اس مشاورتی اجلاس میں میزبان اردن اور سعودی عرب کے علاوہ بحرین ، مصر ، کویت اور متحدہ عرب امارات کے وزرائے خارجہ شریک تھے۔اس کے دو ہفتے کے بعد امریکا اور پولینڈ کے زیر اہتما م مشرقِ اوسط کے بارے میں ایک کانفرنس ہوگی۔ امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے کہا ہے کہ ’’اس کانفرنس میں اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ ایران کا خطے میں کوئی تخریبی اثرونفوذ نہ ہو ‘‘۔ تاہم امریکا کے ایک سینیر عہدہ دار کا کہنا ہے کہ’’ یہ کوئی ایران مخالف اجلاس نہیں ہوگا‘‘ ۔
امریکا کے ایران کے خلاف سخت مؤقف کے پیش نظر بعض ممالک اس کانفرنس میں شرکت کے حوالے سے تردد کا شکا ر ہیں۔ اردن میں یہ اجلاس ایسے وقت میں ہوا ہے جب شام کی عرب لیگ میں واپسی پر بحث بھی جاری ہے۔عرب لیگ نے صدر بشارالاسد کی حکومت کے پُرامن مظاہرین کے خلاف خونیں کریک ڈاؤن کے بعد نومبر 2011ء میں شام کی رکنیت معطل کردی تھی۔اب آٹھ سالہ خانہ جنگی کے بعد صدر بشارالاسد باغی گروپوں کے خلاف فاتح بن کر اُبھرے ہیں تو ان کے ملک کی عرب لیگ میں واپسی کی آوازیں زور پکڑ رہی ہیں۔لبنان اور تیونس سمیت بعض عرب ریاستوں نے شام کی عرب لیگ میں واپسی کا مطالبہ کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   بھارتی پائلٹ کو رہائی کی خبر کے بعد بھارتی فوج نے اپنی قوم کو بڑا سرپرائز دے دیا

Related

اپنا تبصرہ بھیجیں