صنعتی ترقی و حکومتی اخراجات میں کمی، مجموعی پیداوار کیلئے 6.2 فیصدکا ہدف حاصل نہ ہوسکا

کراچی ( اسٹاف رپورٹر)اسٹیٹ بینک نے پاکستان کی معاشی صورتحال پرمالی سال 2018-19 کی پہلی سہ ماہی رپورٹ جاری کردی ‘پہلی سہ ماہی میں بڑے پیمانے کی اشیاء سازی (LSM) میں 1.7 فیصد کمی جبکہ نجی شعبے کی قرض گیری میں اضافہ ہوا‘حکومتی اخراجات میں کمی دیکھنے میں آئی‘خام تیل کی قیمتوں نے مہنگائی بڑھائی اور بیرونی شعبوں میں بہتری کا اثرزائل کیا، بارشیں کم ہونے کی وجہ سے زرعی شعبے کی نمو کم رہی‘روپے کی قدر‘ شرح سود میں اضافہ اور ریگولیٹری ڈیوٹیزکے سبب صنعتی ترقی کم ہوئی‘روپے کی قدر اورزرمبادلہ کے ذخائر میں بھی تخفیف ہوئی‘سیاسی تبدیلی کے سبب بیرونی ادائیگیوں کوغیر یقینی صورتحال کا سامنا رہا ‘ مالیاتی خسارہ حکومتی قرضوں سے پوراکیاگیا‘ بیرونی فنانسنگ کے نئے ذرائع تلاش کیے گئے‘حکومت کی توجہ معاشی استحکام کے حصول پر ہے‘مجموعی قومی پیداوار کی نموکیلئے مقررہ 6.2 فیصد کا ہدف حاصل نہیں ہو سکے گا‘ معیشت کو درپیش مسائل کے حل کیلئے اصلاحات پروگرام میں تیزی ضروری ہوگئی ہے‘ رپورٹ کے مطابق رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی کے دوران مجموعی معاشی ماحول دشوار رہا، جس کی عکاسی ابتدائی ڈیٹا سے ہوتی ہے۔ اہم خدشہ خام تیل کی عالمی قیمتوں میں مسلسل اضافہ تھا جو نہ صرف معیشت میں مہنگائی کے پہلے سے موجود مضبوط مخفی دباؤ کو بڑھانے کا سبب بنا بلکہ اس نے بیرونی شعبے میں آنے والی بہتری کا اثر بھی زائل کر دیا۔ مالیاتی دباؤ بھی برقرار رہا کیونکہ اخراجات کی غیر لچکداری کی وجہ سے حکومت کے پاس اقدامات کی گنجائش محدود تھی۔ مذکورہ چیلنجوں کے جواب میں نئی سیاسی حکومت نے فوری طور پر ترقیاتی اخراجات میں کٹوتیوں کا اعلان کیا، ٹیکسوں میں دیے گئے ریلیف میں جزوی کمی کی اور بیرونی فنانسنگ کا فرق کم کرنے کے ذرائع بھی تلاش کیے گئے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حقیقی جی ڈی پی( مجموعی قومی پیداوار) کی نمو کے لیے مقررہ 6.2 فیصد کا ہدف حاصل نہیں ہوسکے گا کیونکہ پالیسی میں توجہ معاشی استحکام پر مرکوز کی گئی ہے۔ خریف کی تمام اہم فصلوں کی پیداوار گذشتہ سیزن کے مقابلے میں کم رہی، جس کی وجہ پانی کی دستیابی میں کمی تھی جو پیداوار کے مجموعی رقبے میں کمی کا باعث بنی۔ رپورٹ میں اجاگر کیا گیا ہے کہ مہنگائی کا مخفی دباؤ مضبوط اور جڑواں خساروں کے بلند سطح پر رہنے کی وجہ سے زری پالیسی میں مسلسل ردوبدل ہوتا رہا۔زری پالیسی کمیٹی (MPC) کے دو اجلاسوں میں پالیسی ریٹ میں مجموعی طور پر 200 بیسس پوائنٹس کا اضافہ کیا گیا۔ طلب کے مضبوط دباو کے تسلسل کے علاوہ ایندھن کی بلند قیمتوں کے دورِ ثانی اثرات (second-round impact) اور شرح مبادلہ میں کمی کے نتیجے میں قوزی مہنگائی (core inflation) بڑھ گئی۔ جاری سرمائے کے قرضوں (working capital loans) میں سرگرمی زیادہ نمایاں تھی کیونکہ اجناس کی قیمتوں اور خام مال کی لاگتوں میں اضافے کی وجہ سے کاروباری اداروں کی فنانسنگ کی ضروریات بڑھ گئی تھیں۔رپورٹ کے مطابق سہ ماہی کے دوران مجموعی محاصل میں 7.5 فیصد نمو ہوئی۔ تاہم یہ رفتار مالی سال 18 کی پہلی سہ ماہی میں ہونے والے 18.9 فیصد اضافے سے کم تھی۔ سہ ماہی کے دوران اخراجات میں 11.0 فیصد اضافہ ہوا جبکہ گذشتہ برس کی اسی مدت میں یہ 13.5 فیصد تک تھا۔ اس کے نتیجے میں ہونے والے بلند مالیاتی خسارے کو ملکی اور بیرونی دونوں ذرائع سے حاصل کیے گئے حکومتی قرضوں میں اضافے سے پورا کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں:   سانحہ ساہیوال میں جاں بحق افراد بے گنا ہ تھے :سابق آئی جی موٹر وے ذوالفقار چیمہ کا دعویٰ

Related

اپنا تبصرہ بھیجیں