آسیہ کیس کے فیصلے سے قبل گرفتاریاں

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)ملعونہ آسیہ مسیح کی بریت کے خلاف نظر ثانی کی اپیل پر سپریم کورٹ کے فیصلے سے قبل پولیس نے گرفتاریاں شروع کردیں۔دوسری جانب میڈیا کو آسیہ کیس کی خبر نہ نشر کرنے کے پیغام موصول ہو رہے ہیں۔
چیئرمین ڈیفنس آف پاکستان کے حافظ احتشام احمد نےاپنے ردعمل میں کہا ہے کہ رات بھر پنجاب کے مختلف حصوں سے پولیس کی جانب سے گرفتاریوں اور چھاپوں کی اطلاعات موصول ہوتی رہیں ہیں،سپریم کورٹ میں سماعت سے قبل راولپنڈی کو چھاؤنی میں تبدیل کیا جارہا ہے،راولپنڈی کے کئی مقامات پر پولیس کی بھاری نفری تعینات کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے سے قبل اس طرح کے اقدامات تشویشناک اور عدلیہ کی آزادی پر سوالیہ نشان ہے،حکومتی اقدامات واضح کررہے ہیں کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ ایک دفعہ پھر پہلے سے طے ہے۔
حافظ احتشام احمد نے کہا کہ سپریم کورٹ کی جانب سے ممکنہ غیر آئینی،غیر قانونی اور غیر شرعی فیصلے پر احتجاج عوام کا آئینی حق ہے، سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد عوام کو پرامن احتجاج کا حق ملنا چاہئیے، احتجاج کو روکنے کے لئے حکومت کی جانب سے اونچھے ہتھکنڈوں کا استعمال قابل مذمت ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایک مسلمان کے لئے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت و ناموس سے بڑھ کر کسی چیز کی کوئی اہمیت نہیں ہے،سچا مسلمان حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت و ناموس پر حملہ برداشت نہیں کر سکتا، عاشقان مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف پرامن احتجاج پر طاقت کا استعمال کیا گیا تو پورا ملک ایک دفعہ پھر بند ہو جائے گا۔
چیئرمین ڈیفنس آف پاکستان حافظ احتشام احمد نے مزید کہا کہ عدلیہ سمیت تمام ریاستی ادارے ملک کی سلامتی کا خیال کریں، ملک کی سلامتی اور ملک کو خانہ جنگی سے بچانے کا تقاضہ ہے کہ سپریم کورٹ نظر ثانی کی اپیل پر فیصلہ آئین،قانون بالخصوص قرآن و سنت کے مطابق کرے۔
دوسری جانب پاکستان 24 ٹی وی ویب سائٹ کے مطابق میڈیا/ نیوز چینلز سے وابستہ ڈائریکٹرز، ایم ڈیز اور رپورٹرز کو ایک پیغام موصول ہوا ہے کہ آسیہ بی بی کیس کی خبر نشر نہ کی جائے ۔اس پیغام کے آخر میں کسی کا نام نہیں لکھا گیا ۔

یہ بھی پڑھیں:   وزیراعظم عمران خان نے پھر بھارت کو مذاکرات کی پیش کش کردی

Related

اپنا تبصرہ بھیجیں