آسیہ بریت کیخلاف آج سماعت کیلئے بھاری سیکورٹی طلب- لارجر بنچ کا لبیک مطالبہ

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)توہین رسالت کے مقدمے میں ماتحت عدالت اور لاہور ہائیکورٹ سے سزائے موت پانے کے بعد سپریم کورٹ سے بری ہونے والی آسیہ مسیح کی بریت کے خلاف نظر ثانی اپیل کی سماعت آج منگل کو سپریم کورٹ میں ہو رہی ہے۔ اسلام آباد کی انتظامیہ نے اس موقع پر سیکورٹی کیلئے بھاری نفری طلب کر لی ہے جبکہ تحریک لبیک پاکستان نے مطالبہ کیا ہے کہ نظرثانی اپیل پر سماعت تین رکنی بینچ کے بجائے پانچ رکنی لارجر بینچ کرے۔
آسیہ بریت کے خلاف نظرثانی پٹیشن چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور جسٹس مظہر عالم میاں خیل پر مشتمل بینچ کے سامنے سماعت کے لیے مقرر کی گئی ہے۔
یہ پٹیشن آسیہ کے خلاف مقدمے کے مدعی امام مسجد قاری سلام نے اظہر صدیق ایڈووکیٹ کے توسط سے یکم نومبر 2018 کو دائر کی تھی جس پر آج پہلی مرتبہ سماعت ہوگی۔
اپیل کی سماعت کے لیے ملک بھر میں بالعموم اور اسلام آباد میں بالخصوص سیکورٹی بڑھا دی گئی ہے۔ انگریزی روزنامے ڈان کی ویب سائیٹ کے مطابق اسلام آباد کے ڈپٹی کمشنر نے چیف کمشنر کو لکھے گئے خط میں رینجرز کی کوئیک رسپانس فورس کی اضافی نفری سپریم کورٹ کی بلڈنگ، ججز انکلیو، منسٹرز انکلیو اور ڈپلومیٹک انکلیو میں تعینات کرنے کی سفارش کی ہے۔
ان مقامات پر پولیس اور رینجرز کی نفری عام طور پر بھی موجود ہوتی ہے تاہم آج کیلئے بھاری نفری طلب کی گئی ہے۔
لارجر بینچ کی یقین دہانی پر عمل درآمد کا مطالبہ
دوسری جانب تحریک لبیک پاکستان کے قائم مقام امیر علامہ شفیق امینی نے پیر کی شب ایک ویڈیو بیان جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ پنجاب اسمبلی کے باہر ریاستی ذمہ داران کی طرف سے تحریک لبیک کو یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ نظرثانی اپیل پر لارجر بینچ تشکیل دیا جائے گاجس میں شرعی عدالت کے ججز بھی شامل ہوں گے جبکہ قانون دانوں کے ساتھ ساتھ علما سے بھی معاونت لی جائے گی۔
انہوں نے کہاکہ منگل کو جو بینچ سماعت کر رہا ہے اس پر لوگوں کا اعتماد نہیں رہا، نہ ہی اس بنچ کو مفتیان کی معاونت حاصل ہے اور نہ ہی اس میں شرعی عدالت کے جج صاحبان شامل ہیں۔
علامہ شفیق امینی ویڈیو پیغام جاری کرتے ہوئے
علامہ شفیق امینی ویڈیو پیغام جاری کرتے ہوئے
علامہ شفیق امینی نے کہاکہ اگر دہشت گردوں کے مقدمات فوجی عدالتوں میں چل سکتے ہیں تو اس حساس معاملے میں شرعی عدالتوں کے ججز اور مفتیان کرام کو کیوں شامل نہیں کیا جاسکتا۔
انہوں نے تحریک لبیک کے کارکنوں سمیت عاشقان رسول کو الرٹ رہنے کے لیے بھی کہا۔ علامہ شفیق امینی کا کہنا تھا کہ ہم سمجھوتہ نہیں کریں گے۔
تحریک لبیک کے قائدین خادم حسین رضوی اور پیر افضل قادری کی گرفتاری کے بعد علامہ شفیق امینی کا قائم مقام امیر مقرر کیا گیا تھا۔
بیرون ملک لے جانے کی تیاری
قاری سلام کے وکیل اظہر صدیق ایڈووکیٹ نے پیر کے روز نمائندہ امت سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ انہوں نے 20 قانونی نکات نظرثانی پٹیشن کے ساتھ جمع کرائے ہیں، اگر یہ نکات عدالت نے منظور کرلیے توپھر کیس کی سماعت مزیدآگے بڑھ سکے گی بصورت دیگرنظرثانی اپیل خارج ہونےکا خدشہ ہے۔
برطانوی اخبار گارجین کے مطابق آسیہ کے وکیل سیف الملکوک کا کہنا ہے کہ انہیں یقین ہے کہ اپیل خارج کر دی جائے گی۔ گارجین نے کہاکہ اگر ایسا ہوا تو چند گھنٹوں میں آسیہ کو پاکستان سے باہر نکال لیا جائے گا۔
آسیہ کی بیٹوں کو پہلے ہی کینیڈا میں پناہ مل چکی ہے اور ممکنہ طور پر اسے بھی وہیں لے جایا جاسکتا ہے۔
اکتوبر کے اختتام پر آسیہ کی بریت کے فیصلے کے بعد ردعمل سے بچنے کے لیے سیف الملوک پاکستان چھوڑ کر نیدرلینڈ چلے گئے تھے تاہم وہ اس سماعت کے لیے پاکستان آئے ہیں۔
بریت کے خلاف 20 نکات
آسیہ مسیح کی بریت کے خلاف نظرثانی پٹیشن کے ساتھ جو 20 نکات اظہر صدیق ایڈووکیٹ کی جانب سے جمع کرائے گئے ہیں وہ یہ ہیں۔
ملزمہ آسیہ ملعونہ نے گستاخی کوبھری پنچایت میں تسلیم کیاتھااور معافی مانگی تھی ۔آسیہ ملزمہ نے قابل اعتراض جملے اداکیے ۔جس پر اس کے خلاف مقدمہ درج کیاگیا۔
ہائی کورٹ سمیت دیگرعدالتوں نے اسے سزائے موت سنائی ہے ۔
اپیل 11 دن تاخیر سے دائر کی گئی، وقوعہ کا کہیں انکار نہیں کیا گیا جبکہ ملزمہ اور گواہان کی موجودگی سے بھی انکار نہیں کیا گیا۔
ملزمہ نے اپنے جرم کا اعتراف کیا ہے
سپریم کورٹ نے ہائی کورٹ کے فیصلے کاجائزہ تک نہیں لیااور فیصلہ دے دیا۔
فیصلہ جلدبازی میں دیاگیا۔
ملزمہ کے وکیل سیف الملوک کوزیادہ سے زیادہ سناگیا،ان کی معروضات کوہی سب کچھ سمجھ گیااورعدالتی ریکارڈکاجائزہ نہیں لیاگیا۔
ملزمہ کے حوالے سے سابق چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے اپیل کی موجودگی کے باوجودکیس پر تبصرہ کیاجوکہ خلاف قواعدہے ۔
ملزمہ نے کوئی گواہ پیش نہیں کیا،
ملزمہ کے شوہر نے بھی اس کے گناہ گار ہونے کوتسلیم کیا۔
گواہوں نے ایک ہی واقعہ بیان کیااور اس کی تصدیق بھی کی ،لوگوں کااکٹھ کے حوالے سے بیانات میں تضاد ہونے کے باوجودیہ بات طے ہے کہ لوگوں کاجرگہ ہواتھااور اس میں لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے شرکت بھی کی۔
ملزمہ نے خود کومظلوم قرار دینے کے لیے اپنے غیر ملکی آقاﺅں کی خدمات حاصل کیں اور ان کی مددسے یہ کیس لڑا۔
ملزمہ نے خلاف قانون عدلیہ پر دباﺅبڑھانے کے لیے بیرون دنیاکے حکومت سے روابط بڑھائے۔
سپریم کورٹ نے صرف دلائل کی بنیادپر ہی فیصلہ دیاشواہد دیکھے ہی نہیں ۔
آسیہ مسیح نے اپنے اوپر کی گئی جرح میں بھی جرم کوتسلیم کیااور اپنی صفائی میں ایک بھی گواہ پیش نہیں کیا۔
ملزمہ نے جیل میں بھی سیکیورٹی اہلکاروں کے سامنے بھی اپنے جرم پر افسو س کااظہار کرتی رہی ہے ۔
ایف آئی آرتاخیر سے درج کیے جانے پر بھی جرم پر اس کاکوئی اثر نہیں پڑتاپھر بھی جرم توجرم ہی رہتاہے ۔
کیس کاشریعت اور اسلام کی تعلیمات کے مطابق جائزہ نہیں لیاگیااگر جائزہ لے لیاجاتاتومعاملہ اب مختلف ہوتا،
سپریم کورٹ کے شریعت اپیلٹ بنچ کے کسی عالم جج کوبھی بنچ کاحصہ بنایاجاناچاہیے تھا۔
اگر کیس میں آسیہ مسیح کے خلاف درج کرایاگیا پرچہ جھوٹا تھا توکیس درج کرانے والے خلاف سپریم کورٹ نے کوئی کارروائی کرنے کاحکم کیوں جاری نہیں کیا۔

یہ بھی پڑھیں:   سانحہ ساہیوال میں جاں بحق افراد بے گنا ہ تھے :سابق آئی جی موٹر وے ذوالفقار چیمہ کا دعویٰ

Related

اپنا تبصرہ بھیجیں