یمنی حکومت کا حوثیوں پر الحدیدہ معرکے میں 1000 بچے جھونکنے کا الزام

دبئی (مانیٹرنگ ڈیسک) یمن کے صوبے الحدیدہ کے گورنر ڈاکٹر الحسن الطاہر نے الزام عائد کیا ہے کہ حوثیوں نے گذشتہ چند روز کے دوران شمالی سمت سے الحدیدہ کی لڑائی میں ایک ہزار کے قریب بچوں کو جنگجو کے طور پر جھونک ڈالا۔
کثیر الاشاعت عرب روزنامہ “الشرق الاوسط” نے ہفتے کے روز صوبے کے گورنر کے حوالے سے بتایا ہے کہ باغی ملیشیا گزشتہ عرصے کے دوران مادی لالچ دیے جانے کے باوجود الحدیدہ اور تہامہ میں سکونت پذیر مقامی لوگوں کو بھرتی کرنے میں ناکام رہی ہے۔
ادھر یمنی عسکری ذرائع نے جمعہ کی شام بتایا کہ حوثی ملیشیا نے الحدیدہ شہر میں فلور ملوں اور غلے کے گوداموں کو مارٹر گولوں سے نشانہ بنایا۔ اس کے نتیجے میں وہاں موجود گندم مکمل طور پر جل کر راکھ ہو گئی۔یمن کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق حوثی ملیشیا کی جانب سے فلور ملوں کو نشانہ بنانے کا مقصد اقوام متحدہ کی ملز اتھارٹی کے وفد کا جمعے کے روز مقررہ دورہ رکوانا تھا۔ واضح رہے کہ مشترکہ کمیٹی میں شامل حوثی وفد کی ہٹ دھرمی کے باعث غذائی امدادی سامان کی تقسیم کی راہ مسدود ہے۔ حوثیوں نے امداد کی تقسیم کے لیے محفوظ راستے کھولنے اور بارودی سرنگیں ہٹانے سے انکار کر دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   ملا عبدالغنی برادر قطر میں طالبان کے سیاسی دفتر کے سربراہ مقرر

Related

اپنا تبصرہ بھیجیں