یہ منی بجٹ نہیں اصلاحات کا پیکیج ہے، وزیر خزانہ

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) وفاقی وزیرخزانہ اسد عمر نے سستے موبائل فونز پر ٹیکس میں کمی ، بینکوں پر انکم ٹیکس 39فیصد سے کم کر کے 20فیصد کر نے ، فائلر پر بینک ٹرانزیکشن پر ودہولڈنگ ، کاروباری اکاؤنٹس پر 6فیصد ٹیکس رجیم کو ختم کرنے کرتے ہوئے کہاہے کہ نان فائلر 1300سی سی تک گاڑیاں خرید سکیں گے مگر ٹیکس بڑھا رہے ہیں، چھوٹے سے درمیانے اداروں کیلئے قرضوں پر آمدن پر ٹیکس آدھا کررہے ہیں،5ارب روپے کی قرض حسنہ کی سکیم لا رہے ہیں، اخبارات کیلئے نیوز پرنٹ کی درآمد پر ڈیوٹی ختم کر دی ، خام مال کی درآمد پر کچھ پر ٹیکس ختم اور کچھ پر کم کر رہے ہیں، چھوٹے شادی ہالز پر ٹیکس 20 سے کم کر کے 5ہزار کررہے ہیں، خصوصی اقتصادی زون میں سرمایہ کاری لانے پر توجہ ہے، یکم جولائی سے سپر ٹیکس ختم کیا جا رہا ہے ،ایس ایم ای سیکٹر پر آمدن پر عائد ٹیکس 39 فیصد سے کم کرکے 20 فیصد کر رہے ہیں، بینکنگ ٹرانزکشنز پر فائلرز کیلئے 0.3فیصد ود ہولڈنگ ٹیکس ختم کیا جا رہا ہے،6ماہ میں زرعی قرضوں میں 22 فیصد اضافہ ہوا ہے ،1800سی سی سے بڑی گاڑیوں پر ٹیکس کی شرح بڑھائی جائے گی۔ تفصیلات کے مطابق قومی اسمبلی میں منی بجٹ پیش کرتے ہوئے وزیر خزانہ اسد عمر نے کہا کہ میں سپیکرقومی اسمبلی کا بہت بہت شکریہ ادا کرتا ہوں ، آج ہم یہاں بہت اہم کام کیلئے جمع ہوئے ہیں، پاکستان کے عوام نے ملکی مسائل کے حل کیلئے ارکان کو ووٹ دیکر یہاں بھیجا ہے ، ایوان عوام کے مسائل کا ادراک رکھتی ہے اور حل بھی کرنا چاہتی ہے ، یہ کوئی نیا بجٹ پیش نہیں کیا جارہا ، بلکہ یہ ایک اصلاحات کا پیکج ہے جو میں یہا ں پیش کررہا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ جب یہ حکومت بنی تو بہت سے مشکلات تھیں جن سے نمٹنا ضروری تھا ، ہم نے ان مشکلات سے نمٹنے کیلئے اصلاحات کیں اور کوشش کی کہ جب کوئی نئی حکومت آئے تواس کو ایک مستحکم معیشت ملے اور یہ نہ ہو کہ ان کو فون اٹھا کر آئی ایم ایف سے رابطہ کرنا پڑے ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے کمزور طبقات کو اٹھانا ، امیر اور غریب میں فرق کرنا آئینی ذمہ داری ہے جو بدقسمتی سے ماضی کی حکومتوں نے پور ی نہیں کی ۔ انہوں نے کہا کہ ہم امید کرتے ہیں کہ اپوزیشن اپنی غلطیوں سے شائد ہماری اصلاح کیلئے کوئی تجاویز دے سکے، حکومت ملک میں سرمایہ کاری اور صنعتکاری کے فروغ کیلئے اقدامات کرنے جار ی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ آج سے دوسال پہلے معیشت دانوں نے کہا تھا کہ ہم ایک خطرے کی طرف بڑھ رہے ہیں جس پر حکومت نے بجائے اپنی اصلاح کرنے کے الیکشن پر توجہ دی اور الیکشن خریدنے کی کوشش کی گئی ، مسلم لیگ ن کی حکومت نے اپنے بنائے ہوئے بجٹ میں 6.6فیصد کا خسارہ بڑھا دیا ، بجلی کے نظام میں ایسی تباہی لائی گئی کہ جو ماضی میں کبھی نہیں ہوا تھا ، عوام پر مزید قرضے لاد دیئے ، گیس جس میں زرداری صاحب کے دور میں بھی خسارہ نہیں ہوا تھا ، اس میں بھی ڈیڑھ سو ارب روپے خسارے کردیا ۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ ن کی حکومت جوکرکے چلی گئی تھی ، اس پر قابو پانے کیلئے ہم نے مشکل فیصلے کئے ، میں قوم کو داد دیتا ہوں کہ ان کو پتہ تھا کہ یہ مشکل فیصلے ناگزیر تھے ، میں خوشخبری دینا چاہتا ہوں کہ ان مشکل اقدامات کی وجہ سے پاکستان کا کرنٹ خسارہ کم ہوگیاہے ، در آمدات کم ہوگئی ہیں اور بر آمدات بڑھ گئی ہیں اور معیشت میں بہتری آرہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ تین چیزوں کے بغیر پاکستان کی معیشت ٹھیک نہیں ہو سکتی ، پہلی چیز اپنی چادر کو دیکھ کر پاﺅں پھیلانا ، دوسری چیز بر آمدات کے حوالے سے خطرنا ک صورتحال پیدا ہوگئی تھی ، بر آمدات میں اضافہ کرنے اور زراعت اور انڈسٹری کو پاﺅں پر کھڑا کرنا ہے ، تیسر ی چیز جب تک سرمایہ کاری نہیں ہوگی، معیشت پاﺅں پر کھڑی نہیں ہوسکتی ۔ انہوں نے کہا کہ یہ تین بڑے ہدف ہیں ، یہ ہم قوم کو بتائیں کہ ان میں کیسے بہتری لانی ہے ، جب اگلا الیکشن آئے گا تو پیمرا یہ بات ریکارڈ کررہاہے کہ تحریک انصاف کی حکومت کو الیکشن خریدنے کی ضرورت نہیں پڑے گی ۔ انہوں نے کہا کہ 2022میں ترقی کی نمو بہت زیادہ گی اور کرنٹ خسارہ بہت کم ہوگا ، اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم عوام کو پاکستان کا حکمران سمجھتے ہیں اور خود کو عوام کاخادم سمجھتے ہیں۔وزیر خزانہ نے کہاہے کہ چھوٹے سے درمیانی سطح کے ادارے معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہوتے ہیں ، جب تک چھوٹے اور درمیانی سطح کے ادارے ترقی نہیں کریں گے ، نوکریاں پیدا نہیں ہوسکتیں۔ انہوں نے کہا چھوٹے اور درمیانی سطح کے اداروں پر ٹیکس آدھا کردیا جائیگا ، زراعت کو ترقی دینا چاہتے ہی، ملک کی دوتہائی آبادی اس کے ساتھ جڑی ہوئی ہے اورکسان کو قرضوں کی ضرورت محسوس ہوتی ہے ، حکومت کے پہلے چھ ماہ میں زرعی قرضوں میں 22فیصد اضافہ ہوا ہے ، زرعی قرضو ں پر بھی ٹیکس39فیصد سے کم کرکے 20کررہے ہیں، تیسرا سیکٹر جس کو حکومت ترقی دینا چاہتی ہے وہ غریبوں کیلئے گھر بنانا ہے ، وزیر اعظم کا وعدہ ہے کہ پچاس لاکھ گھر بنانے کی کوشش کریں گے اور زیاد ہ غریبوں کے گھروں پر توجہ دی جائیگی ، اس کیلئے بھی گھروں کی تعمیر کیلئے دیئے جانے والے قرضے پر ٹیکس39فیصد سے کم کرکے 20فیصد کررہے ہیں، 5ارب کی قرض حسنہ کی سکیم لائی جارہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکس فائلر کیلئے ود ہولڈنگ ٹیکس نا انصافی پر مبنی تھا جو تاجروں کے ساتھ نا انصافی تھی ، یہ ختم کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پراپرٹی کے اوپر ایک استثنیٰ حاصل تھا کہ نان فائلر پچاس لاکھ تک جائیداد خرید سکتے ہیں ،اب چھوٹی گاڑیاں نا ن فائلر بھی خرید سکتے ہیں لیکن ہم ان پر ٹیکس بڑھا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں کاروبار کرنا مشکل ہے ، اس کے لئے اقدامات کررہے ہیں، ود ہولڈنگ ٹیکس کی سٹیٹمنٹ کو سال میں بارہ مرتبہ پیش کرنے کی بجائے دو مرتبہ کیا جارہاہے ۔ انہوں نے کہا کہ پچھلی حکومتوں نے شادی ہالوں پر ٹیکس بڑھا دیا تھا، شادی ہال پر جو ٹیکس 20ہزار تھا وہ کم کرکے 5ہزار کیا جارہاہے ، تاجروں کیلئے بالکل آسان اورسادہ سکیم لیکر آرہے ہیں، یہ پہلے اسلام آباد میں لاگوکی جائیگی اور اس کی کامیابی کے بعد اس کو ملک بھر میں پھیلایا جائیگا ، مجھے امید ہے کہ اس کے نتیجے میں ٹیکس بھی ہم کو زیادہ ملے گا ۔ انہوں نے کہا کہ نیوز پرنٹ کی انڈسٹر ی کیلئے ، حکومت اس بات پر یقین رکھتی ہے کہ ایک آزاد صحافت چاہئے ، اس لئے ہم نیوز پرنٹ پر جوڈیوٹی لگی ہوئی ہے ، اس کومکمل طور پر ختم کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صنعتی شعبہ کا برا حال ہے ، پچھلے دس سالوں میں معیشت میں صنعت کاحصہ پہلے سے بھی کم ہو گیاہے ، ان کا کہنا تھا کہ حکومت کا کام برابر ی کا میدان دینا ہے ، حکومت صنعت کی ترقی دینے کیلئے متعدد اقدامات کررہی ہے ، آٹو انڈسٹری کاخصوصی خیال رکھا گیاہے جب ہماری صنعت میں ترقی ہوگی تو کرنٹ اکاﺅنٹ خسارہ کم ہوگا ، سپیشل اقتصادی زونز بنائے گئے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ وہ چیزیں جو فیکٹر ی مکمل ہونے کیلئے ضروری ہیں ، وہ اس میں شامل کررہے ہیں، ہم سپیشل اکنامک زونز میں سرمایہ کاری کوفروغ دیناچاہتے ہیں، اس لئے ان میں لگنے والی مشینری پر مکمل کسٹم ڈیوٹی ، سیلز ٹیکس اور انکم ٹیکس کی 5سال کیلئے چھوٹ ہوگی ، ہم چاہتے ہیں کہ سولر پینل اور ونڈ ٹربائن پاکستان میں بنیں ، ہم اعلان کرتے ہیں کہ ایسی صنعتوں میں سرمایہ کار ی کیلئے 5سال تک کسٹم ڈیوٹی ، سیلز ٹیکس سے مکمل استثنیٰ ہوگا ، ہم چاہتے ہیں کہ سپورٹس ترقی کرے ، سپورٹس کی فرنچائز پر ٹیکس مکمل ختم کیا جارہاہے جب اس پر انکم ہوگی تو پھر ان سے ٹیکس لیا جائیگا ۔ انہوں نے کہا کہ یکم جولائی سے جتنی بھی کمپنیا ں ہیں ، ان کا سپر ٹیکس ختم کیا جارہاہے ، ان کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ ن کی حکومت نے ایک عجیب و غریب ٹیکس لگایا تھا ، سیونگ کی حوصلہ افزائی تو دور کی بات بلکہ اس پر ٹیکس لگایا گیا جو یکم جولائی سے ختم ہوجائیگا۔

یہ بھی پڑھیں:   ایف آئی اے کا امیر مقام کیخلاف تحقیقات کا آغاز

Related

اپنا تبصرہ بھیجیں