دو سے تین ماہ میں تمام زیرالتوا فوجداری اپیلیں نمٹا دیں گے ،چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)سپریم کورٹ آف پاکستان نے بیوی کے قاتل کی رہائی کیخلاف اپیل خارج کردی، چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیئے ہیں کہ قتل مقدمات نمٹانے میں 15 سے 18 سال لگتے تھے ،شکر ہے اب وقت کم ہو کر 4 سے 5 سال آگیا ہے ۔ تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی مین بنچ نے بیوی کے قاتل کی رہائی کیخلاف اپیل کی سماعت کی،عدالت نے ملزم کی رہائی کی اپیل خارج کردی۔ چیف جسٹس پاکستان جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیئے ہیں کہ قتل مقدمات نمٹانے میں 15 سے 18 سال لگتے تھے ،شکر ہے اب وقت کم ہو کر 4 سے 5 سال آگیا ہے ۔چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ 2014 واقعہ کا فیصلہ آج سپریم کورٹ سے بھی ہو گیا،اپریل 2018 میں دائر اپیلوں پر آج سماعت ہو رہی ہے۔ چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ دو سے تین ماہ میں تمام زیرالتوا فوجداری اپیلیں نمٹا دیں گے ،تین ماہ بعد جو فوجداری اپیل آئے گی ساتھ ہی مقرر ہو جائے گی ۔

یہ بھی پڑھیں:   جاوید ہاشمی کے بھانجے کی طالبہ سے زیادتی، منہ بند رکھنے پر کیا پیشکش کی گئی؟ طالبہ نے چہرہ بے نقاب کردیا

Related

اپنا تبصرہ بھیجیں