ریاستی دہشتگردی قبول نہیں ہے،حامد میر

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) سینئر صحافی و اینکر پرسن حامد میر کا کہنا ہے کہ ساہیوال میں ہونے والے مشکوک سی ٹی ڈی مقابلے پر ریاستی موقف تسلیم نہیں کیا جاسکتا ۔ اگر ملوث سی ٹی ڈی اہلکاروں کو گرفتار نہ کیا گیا تو وزیر اعلیٰ پنجاب کو اس ظلم کا حساب دینا پڑے گا۔ حامد میر نے ٹوئٹر پر سی ٹی ڈی کی ساہیوال میں کی جانے والی کارروائی میں زندہ بچ جانے والے تین بچوں کے بیان پر مشتمل ویڈیو شیئر کی۔ حامد میر نے کہا ریاستی دہشتگردی قبول نہیں ہے۔ ’ اس بچے کی بات سننے کے بعد مجھے اس کے والدین اور بہن کے سی ٹی ڈی کے ہاتھوں ظالمانہ قتل پر کسی جے آئی ٹی رپورٹ کی ضرورت نہیں ہے‘۔ حامد میر نے کہا وزیر اعلیٰ پنجاب ملوث سی ٹی ڈی اہلکاروں کی فوری گرفتار ی کا حکم جاری کریں اور اگر وہ ایسا نہیں کرتے تو انہیں اس بربریت کی قیمت چکانی پڑے گی۔ خیال رہے کہ ساہیوال میں مبینہ پولیس مقابلے میں جاں بحق ہونے افراد کے بچوں کے مطابق وہ لاہور کے علاقے چونگی امرسدھو کے رہائشی ہیں اور بوریوالہ رشتے دار کی شادی میں جارہے تھے۔ ایک بچے نے بتایا کہ جب پولیس اہلکار آئے تو اس کے پاپا نے بہت منت سماجت کی کہ ہمارے پاس کوئی اسلحہ نہیں آپ تلاشی لے لیں ، لیکن پولیس نے ایک نہ سنی اوروالدین کو گولیاں مار دیں۔

یہ بھی پڑھیں:   وفاقی کابینہ میں پی ٹی آئی کے نظریاتی چہرے غائب، غیر منتخب افراد مشیر بن کر کابینہ کا حصہ بن گئے

Related

اپنا تبصرہ بھیجیں