’ماحولیاتی تبدیلی کا نتیجہ بھگتنے کے لیے تیار رہیں‘

ایک معروف ماہر معاشیات نے متنبہ کیا ہے کہ انسان کو جلد ہی اپنے ہاتھوں کی جانے والی ماحولی تبدیلی کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔

پروفیسر رچرڈ ٹال نے پیش گوئی کی ہے کہ عالمی درجۂ حرارت میں 1.1 سینٹی گریڈ اضافے سے فائدے سے زیادہ نقصان ہے۔

تاہم ماحولیات کے بہت سے سرگرم کارکنوں کا کہنا ہے کہ پروفیسر پول ماحولیات کے بارے میں تشکیک کا شکار بتاتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   چلتے پھرتے ڈیجیٹل ڈالر کمائیں

اس سے قبل انھوں نے فصل اور جنگلات کی فرٹیلازنگ کے لیے CO2 کے مثبت اثرات کی نشاندہی کی تھی۔

ماحولیات یا آب و ہوا یا موسمیات کی مخالفت کرنے والے عام طور پر ان کے نظریات کا حوالہ دیتے ہیں۔

151114173808_chennai_marina_beach_pollution_640x360_bbc_nocredit
اس سے قبل پروفیسر پول نے فصل اور جنگلات کی فرٹیلازنگ کے لیے CO2 کے مثبت اثرات کی نشاندہی کی تھی

پروفیسر پول نے بی بی سی کے پروگرام بدلتی آب و ہوا میں بات کرتے ہوئے کہا: ’بہت سے لوگ شاید یہ کہیں گے کہ درجۂ حرارت میں خفیف اضافہ انسانوں کے لیے مجموعی طور پر مفید ہوگا لیکن اگر اسے ڈالر میں دیکھیں تو اس کا مجموعی اثر منفی آئے گا۔‘

یہ بھی پڑھیں:   چین 2033 تک انسانوں کو مریخ پر بھیجے گا

جب ان سے یہ سوال کیا گیا کہ کیا انسان اس نکتے پر پہنچ گیا ہے جہاں سے اسے اپنے کیے کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا تو انھوں نے کہا: ’جی ہاں۔ تعلیمی میدان میں کم از کم اس پر اتفاق رائے ہے۔‘

لیکن ماحولی تبدیلی کی مخالفت کرنے والوں کے لیے یہ متنازع ہے کیونکہ وہ اکثر پروفیسر ٹول کی تحقیق کا حوالہ دیتے ہیں جس میں کہا گیا ہے کہ ہمیں درجۂ حرارت میں اضافے کے بارے میں پریشان نہیں ہونا چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں:   نیند میں خلل سے بچنے کے لیے ’بیڈ ٹائم موڈ‘ کی ضرورت

اس کے برعکس ایک دوسرے سائنسدان میٹ رڈلی کہتے ہیں کہ درجۂ حرارت میں دو ڈگری تک اضافے سے دنیا کو فائدہ پہنچتا رہے گا۔