91

پاکستانی بچوں کے دانت زیادہ کیوں خراب ہوتے ہیں ،وجہ سامنے آگئی

کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک)پاکستان میں دانتوں کے امراض زیادہ عام ہیں جب کہ پاکستانی بچے نامناسب غذا کے استعمال سے زیادہ تردانتوں کے امراض میں مبتلا ہیں، بنیادی صحت کے اصول اپنا کر دانتوں کی خرابی یا کیڑا لگنے جیسے بنیادی امراض سے خود کو محفوظ رکھا جاسکتا ہے، لوگوں کو ان امراض اور دانتوں کی حفاظتی تدابیر کے حوالے سے آگاہ کرنے کی ضرورت ہے۔یہ بات آغا خان یونیورسٹی، شعبہءدندان سازی کے سربراہ ڈاکٹر فرحان رضا خان نے بدھ کو ڈاکٹر پنجوانی سینٹر برائے مالیکیو لر میڈیسن اور ڈرگ ریسرچ (پی سی ایم ڈی)، بین الاقوامی مرکز برائے کیمیائی و حیاتیاتی علوم (آئی سی سی بی ایس)، جامعہ کراچی کے سیمینار روم میں 41 ویں عوامی آگاہی پروگرام کے تحت ”عام امراضِ دندان اور ان سے بچاو“ کے موضوع پراپنے خطاب کے دوران کہی۔ڈاکٹر فرحان رضا خان نے کہا دانتوں کی خرابی اور دانتوں کے اطراف میں خرابی کا پیدا ہونے جیسے امراض دنیا بھر میں عام ہیں، انھوں نے کہا پاکستان میں شہری علاقوں میں لائق دندان ساز موجود میں لیکن دیہی علاقوں میں صورت حال مختلف اور تکلیف دہ ہے، کچھ اہم امراض میں دانتوں کی عدم موجودگی، مسوڑوں سے خون آنا، عقل داڑ کا مشکل سے نکلنا، سوجن، دانتوں میں سوراخ کا ہونا شامل ہیں، انھوں نے کہا روٹ کنال ٹریٹمنٹ کی کامیابی کے 95 فیصد امکانات ہوتے ہیں جبکہ ناکامی کی صورت میں اس عمل کو دوبارہ کروانے کی صورت میں بھی50 سے 66 فیصد کامیابی کے امکانات ہوتے ہیں،انھوں نے کہا دانتوں کے امراض کے پھیلاو میں کولا مشروبات اور کاربوہائڈریٹس والی غذا کے استعمال کا زیادہ دخل ہے، دانتوں کو کسی بھی فلورائڈ ملے ٹوتھ پیٹ سے دو سے تین منٹ برش کرنے سے ان کی حفاظت ممکن ہے، انھوں نے کہا اس مرض کا شکار، بچے،معاشی بدحالی کا شکار طبقہ اور غیر تعلیم یافتہ افراد ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں