22

وادی نیلم میں پل ٹوٹنے سے 40 سے زائد سیاح دریا میں بہہ گئے

مظفرآباد(مانیٹرنگ ڈیسک)وادی نیلم میں کنڈل شاہی پل ٹوٹنے سے پل پر کھڑے 40 سے زائد سیاح ’نالہ جاگراں‘ میں جاگرے جن میں سے اب تک چار افراد کی لاشیں نکالی جاچکی ہیں جب کہ باقی کی تلاش جاری ہے۔تفصیلات کے مطابق مظفر ا?باد میں وادی نیلم میں خستہ حال کنڈل شاہی پل ٹوٹ گیا جس کے باعث پل پر کھڑے سیاح نالہ جاگراں میں گرگئے۔ ڈوبنے والے چار افراد کی لاشیں نکال لی گئی ہیں۔ دریا میں گرے سیاحوں کی تلاش کے لیے امدادی اداروں نے کارروائیاں شروع کردی ہیں۔ دریا کا بہاو¿ انتہائی تیز ہونے کی وجہ سے ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ پل پر خواتین اور بچوں سمیت40 سے زائد سیاح کھڑے تھےکہ اچانک پل ٹوٹ گیا اور پل پر موجود تمام لوگ نالے میں بہہ گئے۔ نالہ جاگراں بلندی سے نیچے اترنے والا انتہائی تیز رفتار نالہ ہے جس میں پانی بہت تیز رفتاری سے بہتا ہے لہٰذا گرنے والے سیاحوں کےبچنے کی امید بہت کم ہے۔ نالے میں ڈوبنے والے چار سیاحوں کی لاشیں نکال لی گئی ہیں جب کہ بڑے پیمانے پر ہلاکتوں کا خدشہ ہے۔
ڈپٹی کمشنر نیلم راجہ شاہد محمود کا کہنا ہے کہ پل پر 40 سے زائد سیاح موجود تھے، خستہ حال پل گنجائش سےزیادہ افراد کا وزن برداشت نہ کرسکا اور ٹوٹ گیا جس کے باعث پل پر موجود تمام افراد نالے میں گرگئے۔ نالے سے اب تک چار لاشیں نکالی جاچکی ہیں جب کہ 6 افراد کو زندہ بچالیا گیا ہے۔
دریا میں گرنے والے سیاحوں میں کالج کے طلبہ و طالبات بھی شامل ہیں۔ نیلم حادثے میں متاثرہ افراد کی اکثریت کا تعلق فیصل ا?باد، لاہور اور سرگودھاسے ہے۔ دریا میں ڈوبنے والے پپس کالج فیصل اباد کے تین طالبعلموں کی لاشیں نکال لی گئی ہیں جب کہ دوطالبات اورایک طالبعلم کو زندہ بچالیا گیا ہے۔ ہلاک ہونے والے طالبعلموں کی شناخت شاہ زیب، عبدالرحمان اور محمد زبیر کے نام سے ہوئی ہے، جب کہ پپس کالج کی طالبات انعم دختر مطلوب، علینہ بی بی اور طالبعلم ولید ساجد کو زخمی حالت میں نکال لیاگیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں