125

نقیب قتل کیس،سپریم کورٹ کا راو¿ انوار کو گرفتار نہ کرنے کا حکم

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے راو¿ انوار کو گرفتار نہ کرنے کا حکم جاری کرتے ہوئے جمعہ تک کی حفاظتی ضمانت منظور کرلی۔سپریم کورٹ میں نقیب اللہ قتل از خود نوٹس کیس کی سماعت ہوئی۔ راو¿ انوار نے چیف جسٹس سپریم کورٹ کے نام خط لکھ دیا۔ راو¿ انوار نے خط ممیں آزاد جے آئی ٹی بنانے کا مطالبہ کردیا چیف جسٹس ثاقب نچار نے سوال کیا کہ کیا یہ خط راو¿ انوار نے لکھا ہے؟ سندھ پولیس کے حکام نے تصدیق کی کہ خط راو¿ انوار نے لکھا ہے۔چیف جسٹس نے کہا کہ راو¿ انوار کہتے ہیں کہ وہ بے گناہ ہیں راو¿ انوار کا موقف ہے کہ وہ موقع پر موجود نہیں تھے عدالت نے حکم دیا کہ راو¿ انوار کو گرفتار نہ کیا جائے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ راو¿ انوار کو حفاظتی ضمانت دی جائے گی۔ سپریم کورٹ نے نقیب ا? کیس میں نئی جے آئی ٹی تشکیل دینے کا فیصلہ کرلیا۔آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ نے عدالت کو بتایا کہ تحقیقاتی اداروں پر مشتمل کمیٹی نے رپورٹ دیدی ہے۔ آئی بی نے ملزم کی لوکیشن ٹریس کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔ آئی بی کا کہنا ہے کہ واٹس ایپ سے لوکیشن ٹریس نہیں ہوسکتی چیف جسٹس نے کہا کہ اس کا مطلب ہے ابھی تک کچھ نہیں ہوا؟ ہم ہر بار وقت دیتے ہیں لگتا ہے راو¿ انوار کو ہمیں ہی پکڑنا ہوگا۔ آئی جی سندھ نے کہا کہ راو¿ انوار کو صفائی کا موقع ملنا چاہئے بے شک عدالت جے آئی ٹی بنا دے۔چیف جسٹس نے کہا کہ پھر حکم دے دیتے ہیں راو¿ انوار سپریم کورٹ آجائے۔ راو¿ انوار کیلئے جے آئی ٹی بنا دیتے ہیں۔ راو¿ انوار کو سکیورٹی فراہم کرنا بھی ضروری ہے۔ راو¿ انوار کو حفاظتی ضمانت دے دیتے ہین راو¿ انوار جمعہ کو عدالت میں پیش ہوں۔ راو¿ انوار نے حساس اداروں کو جے آئی ٹی میں شامل کرنے کی استدعا کی ہے جے آئی ٹی میں پولیس افسر بھی شامل ہوں گے۔ قومی ادارے پر بے یقینی یا مایوسی کا اظہار نہیں ہونا چاہئے۔عدالت نے راو¿ انوار کو جمعہ تک حفاظتی ضمانت دیدی۔ عدالت پیشی کے موقع پر راو¿ انوار کو پولیس یا کوئی اور ایجنسی کسی مقدمے میں گرفتار نہ کرے۔عدالت نے اسلام آباد اور سندھ پولیس کو راو¿ انوار کو پیشی پر تحفظ فراہم کرنے کا حکم دیدیا۔ کیس کی مزید سماعت جمعہ تک ملتوی کردی گئی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں