24

جب تک قوم فوج کے پیچھے کھڑی ہے ملک کا کوئی کچھ نہیں بگاڑسکتا،جنرل باجوہ

راولپنڈی(مانیٹرنگ ڈیسک)آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا ہے کہ فاٹا میں ابھی امن آیا تو کچھ لوگوں نے نئی تحریک شروع کردی لیکن جب تک قوم فوج کے پیچھے کھڑی ہے ملک کا کوئی کچھ نہیں بگاڑسکتا۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق جنرل ہیڈ کوارٹرز میں تقسیم اعزازات کی تقریب ہوئی جس میں عسکری حکام ، غازیوں اور شہدا کے لواحقین نے شرکت کی جب کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے شہدا کے لواحقین اور غازیوں میں اعزازات تقسیم کیے۔ترجمان پاک فوج کے مطابق 32 افسران کو ستارہ امتیاز ملٹری سے نوازا گیا، 2 افسران کو تمغہ جرات اور 33 افسران و جوانوں کو تمغہ بسالت دیا گیا جب کہ 4 افسروں، جوانوں کو یو این میڈل دیا گیا۔
اس موقع پر آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا تھا کہ ملک کی خاطر جان قربان کرنے والے شہدا اورغازیوں کی ماو¿ں کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں، یہی شہید نوجوان ہی ہمارے اصل ہیرو ہیں جب کہ کوئی بھی میڈل شہدا کی قربانی کانعم البدل نہیں ہوسکتا، شہدا کے ورثا کی ہر ممکن مدد جاری رکھیں گے۔
پاک فوج کے سربراہ کا کہنا تھا کہ شہدا اورغازیوں کی قربانیوں کی وجہ سے آج ہم یہاں کھڑے ہیں اور امن کی جانب گامزن ہیں، پاکستان نے دہشت گردوں کواٹھا کر باہر پھینک دیا ہے تاہم دہشت گردی کے خلاف جنگ ابھی جاری ہے جب کہ جو قومیں اپنے شہدا کو بھلادیتی ہیں، دنیا سے ان کا نام ونشان مٹ جایا کرتا ہے۔آرمی چیف کا کہنا تھا کہ ہماری قوم کی یادداشت تھوڑی کمزور ہے لیکن ہم نے اپنے شہدا کو یاد رکھنا ہے، فاٹا میں ابھی امن آیا تو کچھ لوگوں نے نئی تحریک شروع کردی لیکن میں تمام لوگوں سے کہنا چاہتا ہوں جب تک یہ قوم فوج کے پیچھے کھڑی ہے اس ملک کو کچھ نہیں ہوگا اور ملک دشمنوں کے لیے پیغام ہے کہ وہ کبھی کامیاب نہیں ہوں گے۔دوسری جانب آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ سے خیبرپختونخوا کے عمائدین نے ملاقات کی جس میں تاجر، وکلا اور اساتذہ سمیت سینیٹرز، ایم این ایز بھی شامل تھے۔ ترجمان پاک فوج کے مطابق آرمی چیف نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کامیابیوں، سیکیورٹی صورتحال پر اظہار خیال کیا اور پاکستان بالخصوص فاٹا اور کے پی کے عوام کے عزم و جرات کو سراہا۔
پاک فوج کے سربراہ کا کہنا تھا کہ پاکستانی قوم بلخصوص پختون عوام نے دہشت گردی کے خلاف مزاحمت کی، کے پی اور فاٹا کے عوام دہشت گردی سے سب سے زیادہ متاثر ہوئے جب کہ بحثیت قوم دہشت گردی اور انتہاپسندی کے خلاف جنگ میں بہت مشکل وقت کامیابی سے گزار چکے لیکن ابھی بھی بہت کچھ کرنا باقی ہے۔آرمی چیف کا کہنا تھا کہ ایسا امن چاہتے ہیں کہ دہشت گرد دوبارہ داخل نہ ہوں، سیکیورٹی اور امن کے لیے پاک فوج سے زیادہ کوئی خواہش مند نہیں جب کہ ہمارا مقصد صرف پرامن پاکستان ہے اور ہماری تمام تر کوششیں پاکستان کو پرامن بنانے کے لیے ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ یہ کامیابی بہت خون دیکر حاصل کی گئی اور کسی بھی ریاست مخالف یا انجنئیرڈ مظاہروں سے ہماری کامیابیاں ختم نہیں ہوں گی، ریاست میں طاقت کے استعمال کا اختیار صرف ریاست کو حاصل ہے۔جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا تھا کہ پرامن شہریوں کی مشکلات کا مکمل احساس ہے لیکن خطرات کے باعث ہمیں سوچ سمجھ کر اقدامات اٹھانا ہوں گے، اقدامات کے باوجود خطرہ سرحد کے قریب اور مہاجرکیمپس میں موجود ہے جب کہ یہ وقت ہے کہ سب متحد ہوکر امن اور استحکام کے لیے کوششیں کریں۔ انہوں نے کہا کہ پاک فوج دہشت گردی سے متاثرہ علاقوں میں سماجی ترقی کے لیے ہرممکن تعاون کرے گی جب کہ ناکوں پر سیکیورٹی متاثر ہوئے بغیر عام عوام کی سہولیات کے لیے اقدامات کررہے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں